① قربانی کا مقصد
﴿لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ﴾
(اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔)
﴿ذَٰلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾
(یہ بات ہے، اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔)
② تقویٰ کی اہمیت
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾
(اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔)
﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾
(اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔)
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
(بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔)
قَوْلُ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ:
«التَّقْوَى أَنْ تَعْمَلَ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَلَىٰ نُورٍ مِنَ اللَّهِ تَرْجُو ثَوَابَ اللَّهِ، وَأَنْ تَتْرُكَ مَعْصِيَةَ اللَّهِ عَلَىٰ نُورٍ مِنَ اللَّهِ تَخَافُ عِقَابَ اللَّهِ»
(تقویٰ یہ ہے کہ تم اللہ کی اطاعت اللہ کی طرف سے ملنے والی روشنی کے مطابق اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے کرو، اور اللہ کی نافرمانی کو اللہ کی طرف سے ملنے والی روشنی کے مطابق اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے چھوڑ دو۔)
③ قبولیتِ عمل
﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾
(اللہ تو صرف متقیوں ہی سے قبول فرماتا ہے۔)
قَوْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
«كُونُوا لِقَبُولِ الْعَمَلِ أَشَدَّ اهْتِمَامًا مِنْكُمْ بِالْعَمَلِ»
(عمل کرنے سے زیادہ اس کی قبولیت کی فکر کرو۔)
قَوْلُ بَعْضِ السَّلَفِ:
«مِنْ ثَوَابِ الْحَسَنَةِ الْحَسَنَةُ بَعْدَهَا»
(نیکی کا بدلہ یہ ہے کہ اس کے بعد مزید نیکی کی توفیق ملے۔)
④ نماز اور تقویٰ
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾
(اور نماز قائم کرو۔)
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾
(بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔)
«الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ» ترمذی
(ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے، جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے کفر کا کام کیا۔)
«أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ» او کما قال الخ ترمذی
(قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا۔)
⑤ توبہ اور گناہوں سے اجتناب
﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ﴾
(اے مؤمنو! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو۔)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾
(اے ایمان والو! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو۔)
«التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ» ابن ماجہ
(گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔)
⑥ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سبق
﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا﴾
(تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔)
﴿إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ﴾
(بے شک یہ کھلا ہوا امتحان تھا۔)
﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾
(اور ہم نے اس کے بدلے ایک عظیم قربانی دے دی۔)
⑦ تقویٰ کا امتحان تنہائی میں
«لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ هَبَاءً مَنْثُورًا ... إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا» ابن ماجہ
(میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے سفید پہاڑوں جیسی نیکیاں لائیں گے، مگر اللہ انہیں بکھرے ہوئے غبار بنا دے گا... کیونکہ جب تنہائی میں ہوتے تھے تو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کرتے تھے۔)
⑧ زبان کا تقویٰ
«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» مسلم
(جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔)
« يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ» ترمذی
(لوگوں کو منہ کے بل جہنم میں گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتی ہی تو ہے۔)
⑨ حقوق العباد
«الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» ترمذی
(مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔)
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ» دیلمی
(تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔)
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ» بخاری
(تم میں سے کوئی کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔)
⑩ حلال کمائی
﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ﴾
(اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔)
«إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا» مشیخۃ البخاری، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ (ترمذی)
(بے شک اللہ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔)
⑪ محاسبۂ نفس
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾
(اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔)
«الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ» (ترمذی)
(عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔)
«حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَزِنُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوزَنُوا» (مصنف ابنِ شیبہ)
(اپنا حساب خود لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو خود تولو اس سے پہلے کہ وہ تولے جائیں۔)
⑫ موت اور آخرت
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
(ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔)
﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾
(جو ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا، اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔)
﴿يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾
(جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا۔)
⑬ اختتام
«اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ»
(جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔)
﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾
(اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں