اشاعتیں

فضلائے دار العلوم دیوبند، صوبہ اڈیشا (اڑیسہ)

صوبہ اڈیشا (اڑیسہ) سے فضلائے دار العلوم دیوبند (1351–1409ھ) (1) اڈیشا (اڑیسہ) سے شیخ الاسلام حضرت مدنی علیہ الرحمہ کے تلامذہ (جن کے نام ادارہ پیغام محمود دیوبند سے شائع ڈائری میں ملے): 1351ھ (1932ء): مولانا صوفی سید سخاوت حسین رحمہ اللہ 1353ھ (1934ء): مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی رحمہ اللہ 1354ھ (1935ء): مولانا عبد الرؤف کٹکی رحمہ اللہ 1455ھ (1936ء): مولانا عبد الماجد کٹکی رحمہ اللہ 1455ھ (1936ء): مولانا عبید اللہ کٹکی رحمہ اللہ 1455ھ (1936ء): مولانا جعفر کٹکی رحمہ اللہ 1360ھ (1941ء): مفتی محمد یعقوب علی کٹکی رحمہ اللہ 1377ھ (1957ء): مولانا سید معین الاسلام قاسمی کٹکی رحمہ اللہ نوٹ (1): مولانا عبد المنان صاحب بھی تھے؛ مگر دورۂ حدیث کے سال ہندوستان چھوڑ دو تحریک (Quit India Movment) میں شامل ہو گئے تھے۔ یہ 1942ء سے 1945ء کے بیچ میں فارغ ہوتے؛ مگر تعلیمی سلسلہ منقطع کرکے چلے گئے تھے اور ایک سال جیل میں رہے تھے۔ ان کا تعلق چودہ کلاٹ، ضلع کیندراپاڑہ سے تھا اور ان کی ولادت 1921ء کی تھی۔ وہ شیخ الاسلام کے شاگرد تھے اور انھوں نے جاج پور کے علاقے میں طویل زمانے تک خدمات انجام دیں۔ ان کا انتقال...

مولانا صوفی سید سخاوت حسین کٹکی قاسمی

مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ (مُجازِ صحبتِ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ) اڈیشا میں مسلکِ دیوبند، اصلاحِ عقائد اور تصوفِ صحیح کی جو بنیادیں قائم ہوئیں، اُن کے اولین معماروں میں حضرت مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ نہ صرف فاضلِ دار العلوم دیوبند تھے بلکہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مجازینِ صحبت میں سے تھے۔(1)(2) آپ نے اڈیشا کے مختلف علاقوں میں امامت، خطابت، دعوت و اصلاح اور دینی بیداری کی ایسی خدمات انجام دیں جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ولادت اور خاندانی پس منظر: مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ کی جائے ولادت گوہالی پور، سونگڑہ، ضلع کٹک، اڈیشا تھی۔ آپ کے والد کا نام سید وزارت حسین تھا۔ آپ کی تاریخِ ولادت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ عماد القراء مرزا بسم اللہ بیگ نے آپ کی ولادت 1332ھ (مطابق 1913ء یا 1914ء) لکھی ہے؛(3) جبکہ مولانا کے نواسے حضرت مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب، مناظرِ اسلام حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مولانا اسماعیل کٹکی فرمایا کرتے تھے کہ...

خودنوشت حالات: مولانا مفتی ریاست علی قاسمی رام پوری

بسم اﷲ الرحمن الرحیم خودنوشت حالات  (مولانا مفتی ریاست علی قاسمی رام پوری استاذ حدیث و مفتی جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد، امروہہ) میرا نام ریاست علی ہے اور والد محترم کا اسم گرامی نثار احمد مرحوم ہے، میرا وطن اصل احمدپور شکارپور، ڈاکخانہ سید نگر، تحصیل ٹانڈہ بادلی ، تھانہ ٹانڈہ بادلی ، ضلع رام پور، صوبہ اترپردیش ہے جس گاؤں میں میری ولادت ہوئی وہ دراصل دو جڑواں گاؤں کا مجموعہ ہے اور سرکاری کاغذات میں دونوں کو ایک ساتھ ہی لکھا اور بولا جاتا ہے، ہمارے تعلیمی زمانہ میں ہماری تحصیل صدر یعنی شہر رام پور تھی، بعد میں ضلع رام پور میں ایک جدید تحصیل کا اضافہ ہوا اور ٹانڈہ بادلی کو تحصیل کا درجہ حاصل ہو اور ہماری تحصیل ٹانڈہ قرار دی گئی، ہمارے سرکاری کاغذات اور تعلیمی اسناد میں تحصیل صدر رام پور لکھی ہوئی ہے۔ ہماری برادری ترک کہلاتی ہے جو ہندوستان کی مشہور و معروف قوم ہے، بڑے بڑے علماء و مشائخ اور سلاطین اس قوم میں پیدا ہوئے۔ ہندوستان کے اولین محدث شیخ عبدالحق محدث دہلوی، شیخ الاسلام محدث، شیخ نورالحق محدث اور سلطان الاولیاء خواجہ شمس الدین ترک اور بعد کے ادوار میں مجاہد اسلام مشہور محدث حض...

صحابۂ کرامؓ کا مقام و مرتبہ

تصویر
صحابۂ کرامؓ کا مقام و مرتبہ محمد روح الامین میُوربھنجی     آج چہار دانگ عالم میں اگر اسلام اور مسلمان نظر آتے ہیں، تو یہ صحابہ کرام - رضوان اللہ علیہم اجمعین - کی محنتوں ہی کا ثمرہ ہے، جنھوں نے تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے لیے اپنی جان اور اپنے مال و دولت کی بازیاں لگا دیں، ان کی بیویاں بیوہ اور ان کے بچے یتیم ہو گئے، انھوں نے اپنے گھر بار اور اپنے ملک و وطن کو چھوڑ کر صحراؤں اور بیابانوں میں روز و شب بسر کیے؛ یہاں تک کہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جانوں کو نچھاور اور قربان کر دیا؛ تب جا کر ہم تک توحید کا پیغام اور دین اسلام پہنچا ہے۔ ”صحابی“ کیسے کہتے ہیں؟     لغت میں لفظ ”صحابی“، ”صاحب“ یعنی ساتھی کے معنی میں آتا ہے، جس کی جمع ”صحابہ“ آتی ہے۔ (صحابۂ رسول اسلام کی نظر میں، ص: 31–32)     حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (متوفی: 852ھ م 1449ء) نے اپنی کتاب ”الإصابۃ فی تمییز الصحابہ“ میں ”صحابی“ کی ایک جامع و مانع اصطلاحی تعریف یہ لکھی ہے: مَا وَقَفْتُ عَلَيْهِ مِنْ ذٰلِكَ أَنَّ الصَّحَابِي مَنْ لقيَ النَّبِيَّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – مُؤْمِنًا...

قیام دار العلوم دیوبند اور پہلے طالب علم سے متعلق مواد

تصویر
قیام دار العلوم دیوبند اور پہلے طالب علم سے متعلق مواد مرتب: محمد روح الامین میُوربھنجی سوانح قاسمی میں مولانا گیلانی نے تنہا حضرت نانوتوی کو بہ حیثیت بانی دارالعلوم یا اصل بانی دارالعلوم پیش کرنے کے کے سلسلے کی توجیہات کو خود تراشیدہ مفروضہ قرار دیا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بیسویں صدی کے اواخر میں حضرت نانوتوی کو مستقل بانی دارالعلوم کہنے کا رجحان ہوا ہے اور انصاف تو یہ ہے کہ حاجی عابد حسین صاحب اور ان کے رفقا میں حضرت نانوتوی کا تذکرہ بہ حیثیت بانی کیا جائے؛ ناکہ مستقل انھیں ہی بانی کہا جائے۔ (ذیل میں پیش کی گئیں قدیم و جدید عبارات کو ملاحظہ فرمائیں اور خود ہی معتدلانہ رائے اختیار کریں۔) الهدية السنية في ذكر المدرسة الإسلامية الديوبندية (مصنفہ: والدِ شیخ الہند مولانا ذوالفقار علی دیوبندی، مطبوعہ: 1307ھ م 1890ء)؛ مگر اس کے ابتدائی صفحات دستیاب پی ڈی ایف میں پڑھنے کے لائق نہیں ہیں: اسی کی عکسِ طباعت مکتبہ محمودیہ، لاہور سے 1400ھ م 1980ء میں شائع ہوئی تھی، جس سے متعلقہ صفحات پیش خدمت ہیں: الهدية السنية...