جمعہ، 15 ستمبر، 2023

پروفیسر مولانا سید کفیل احمد قاسمی: مختصر سوانحی خاکہ

پروفیسر مولانا سید کفیل احمد قاسمی: مختصر سوانحی خاکہ

محمد روح الامین میُوربھنجی
   مشرقی ہند میں واقع اڈیشا جیسے دور دراز صوبے سے اٹھ کر پورے ہندوستان؛ بلکہ دنیا کے خطے خطے میں جن شخصیات نے اڈیشا کا نام روشن کیا ہے، ان میں نمایاں نام اور مقام حضرت مولانا پروفیسر سید کفیل احمد قاسمی کا ہے، جنھوں نے اپنی پوری حیات مستعار عربی زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کر دی اور جن کے تلامذہ ملک و بیرون ملک کے مختلف گوشوں میں عربی زبان و ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آج انھیں کی حیات و خدمات پر کچھ رقم کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ اس مضمون یا مقالے کے لیے بندے نے خصوصی طور پر خود صاحب احوال کے فراہم کردہ مواد اور مولانا مطیع اللہ نازش، ہیڈ مولوی راونشا کالجیٹ اسکول، کٹک کی کتاب ”اڈیشا میں اردو نثر نگاری“ میں مولانا موصوف پر مضمون سے استفادہ کیا ہے۔

ولادت و خاندان: مولانا سید کفیل احمد قاسمی دار العلوم دیوبند کے تصدیق نامے اور جامعہ ہائر سیکنڈری اسکول کی سند کے مطابق؛ 25 دسمبر 1951ء کو صوبہ اڈیشا کے ضلع کٹک میں واقع قصبۂ سادات سونگڑہ کے جیرام پور، محلہ کود میں سید محمد صالح مرحوم کے یہاں پیدا ہوئے۔

ابتدائی و متوسط تعلیم: ابتدائی فارسی و عربی کی تعلیم گھر میں حاصل کرنے کے بعد؛ اڈیشا کے ام المدارس ”مدرسہ عربیہ اسلامیہ“ (موجودہ نام: جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم، سونگڑہ) میں داخلہ لیا۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ سونگڑہ میں مولانا موصوف کے عربی و فارسی کے اساتذہ میں مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ، مولانا عبد القدوس کٹکیؒ، مولانا عبد الغفارؒ (دھرم شالہ)، مولانا محمد عرفان دھام نگریؒ، مولانا محمد اسحاق کٹکیؒ، مولانا محمود الحسن کٹکیؒ، مولانا عبد الحفیظ کٹکی، مولانا رفیق الدین کٹکیؒ، مولانا محمد اسماعیل پٹنویؒ اور مولانا محمد یحیی مونگیریؒ شامل تھے۔ قرات کے اساتذہ میں قاری جمیل الرحمنؒ (بیگو سرائے)، قاری عبد العزیز بہاریؒ اور قاری عبد الشکورؒ (پوری) تھے۔

    ان کے وقت میں مدرسہ چھپر کا تھا؛ چھت پھوس کی تھی؛ بس ایک لمبا سا کمرہ تھا، جس میں اساتذہ الگ الگ جگہ بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے، نیز باہر سے آنے والے طلبہ کو حسبِ استطاعت لوگ اپنے بچوں کی طرح اپنے گھروں میں ٹھہرا لیا کرتے تھے۔

    ان کے سینئر ساتھیوں میں مولانا منظور احمد قاسمیؒ، مولانا سید سراج الساجدین قاسمیؒ، حکیم سید عمید الاسلام قاسمیؒ، مولانا سید عبد المتین مفتاحیؒ، مولانا سید غلام کبریا مفتاحی، مولانا محمد جلال قاسمیؒ، مولانا اکرام الحق قاسمیؒ، مولانا عبد الرحیم مفتاحیؒ (معروف بہ منشی؛ داماد مسیح الامت مولانا مسیح اللّٰہ خاں جلال آبادیؒ)، مولانا محمد اسحاق پٹنویؒ وغیرہ تھے۔ ہم عصروں میں مولانا انیس الرحمن مفتاحی، مولانا عبد الوہاب، مولانا عمر احمد کٹکی، مولانا محمد آزاد کٹکی قاسمی، مولانا سید احمد میاںؒ (صاحب زادہ مولانا سید اسماعیل مرحوم) اور دیگر معاصرین طلبہ میں مولانا نفیل الرحمن بیگو سرائے، مولانا منور تِلدہ، مولانا زین العابدین تِلدہ، مولانا جمیل احمد معصوم پوری، مولانا اصغر الدین معصوم پوری اور مولانا علی یوسف دریا پوری وغیرہ تھے۔

      اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند میں
    سونگڑہ میں کنز الدقائق، مختصر المعانی اور قطبی وغیرہ تک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے 1962ء میں درجات متوسطہ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند کا رخ کیا، امتحان داخلہ ہوا، ان کا امتحان مولانا عبد الاحد دیوبندیؒ نے لیا اور شرح وقایہ، مختصر المعانی اور قطبی وغیرہ معیار کی جماعت میں ان کا داخلہ ہو گیا اور وہ 1385ھ مطابق 1965ء میں دورۂ حدیث پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔

ان کے اساتذۂ دار العلوم دیوبند کے نام مع اسمائے کتب:
مولانا محمد نعیم دیوبندیؒ (ہدایہ اولین، مختصر المعانی، ملا حسن)
مولانا انظر شاہ کشمیریؒ (مقامات حریری)
مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ (جلالین)
مولانا عبد الاحد دیوبندیؒ (مشکاۃ المصابیح)
مولانا خورشید عالم دیوبندیؒ (سلم العلوم)
مولانا اسعد مدنیؒ (شرح وقایہ)
مولانا قمر الدین احمد گورکھپوریؒ (شرح وقایہ)
مولانا معراج الحق دیوبندیؒ (موطأ امام مالک)
قاری محمد طیب قاسمیؒ (سنن ابن ماجہ)
علامہ محمد ابراہیم بلیاویؒ (جامع ترمذی)
مولانا بشیر احمد خان بلند شہریؒ (صحیح مسلم)
میاں اختر حسین دیوبندیؒ (ہدایہ آخرین)
مولانا فخر الحسن مرادآبادیؒ (سنن ابو داؤد، شمائل ترمذی)
مولانا شریف الحسن دیوبندیؒ (سنن نسائی)
مولانا اسلام الحق اعظمیؒ (طحاوی یعنی شرح معانی الآثار، میبذی)
مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ (صحیح البخاری)

 مذکورۂ بالا اساتذۂ کرام کے علاوہ انھوں نے دار العلوم میں مولانا وحید الزماں کیرانویؒ سے ترجمۂ قرآن (نصف اول) پڑھا اور عربی کے کلاس سے بھی خصوصی استفادہ کیا۔

    ان کے شرکائے دورۂ حدیث میں قاری محمد عثمان منصور پوریؒ، مولانا محمد ولی رحمانیؒ جیسے مشاہیر اور مولانا عبد الوہاب کٹکی اور مولانا سید احمد میاںؒ (صاحب زادۂ مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی) اور مولانا محمد ایوب کٹکی شامل تھے۔

عصری علوم کے لیے عصری درس گاہوں میں: علومِ دینیہ کی تحصیل کے بعد؛ عصری علوم کے لیے مولانا موصوف نے 1966ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں داخلہ لیا اور 1968ء میں وہاں سے فرسٹ ڈویژن اور درجۂ دوم کے ساتھ ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کیا۔ وہاں پر ان کے اساتذۂ عربی میں پروفیسر عبد الحلیم ندویؒ اور پروفیسر اجتبا ندویؒ شامل تھے۔

    1968ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے کے سالِ اول میں ان کا داخلہ ہوا اور 1971ء میں فرسٹ ڈویژن اور درجۂ اول کے ساتھ مشترکہ طور پر عربی و انگریزی میں بی اے (آنرس) کا امتحان پاس کیا، خصوصی مضامین میں عربی آنرس کے ساتھ انگریزی زبان و ادب اور تاریخ شامل رہا۔ وہاں پر مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ ان کے دینیات کے استاذ رہے، تاریخ میں انھوں نے پروفیسر عرفان حبیب سے ”موڈرن انڈیا“ کا ایک پرچہ پڑھا، نیز وہاں پر ان کے عربی کے اساتذہ میں پروفیسر مختار الدین احمدؒ (سابق صدر شعبۂ عربی و شاگردِ خاص علامہ عبد العزیز المیمنیؒ)، ڈاکٹر حافظ غلام مصطفیٰؒ، پروفیسر ریاض الرحمن شیروانیؒ، پروفیسر محمد مہدی انصاریؒ اور ڈاکٹر حامد علی خاںؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

   1973ء میں وہیں سے عربی میں فرسٹ ڈویژن اور درجۂ اول کے ساتھ ایم اے کا امتحان پاس کیا، وہیں سے عربی میں 1976ء کو ایم فِل کیا اور 1986ء میں ڈاکٹر مختار الدین احمدؒ کے زیر نگرانی؛ تقی الدین المقریزیؒ (متوفی: 845ھ مطابق 1442ء) کے عربی مخطوطہ ”کتاب المقفی“ کی تیسری جلد پر عربی میں مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

   آخر الذکر مخطوطہ کو دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد نے پانچ جلدوں میں شائع کیا ہے۔ (دراصل مَقریزی، مصر کے علماء اور اصحابِ علم و فضل — خواہ وہ مصری الاصل ہوں؛ یا یا مصر آئے ہوں — کی تاریخ 80 جلدوں میں لکھنا چاہتے تھے اور 16 جلدیں ہی مکمل کر پائے؛ لیکن امتداد زمانہ کے ہاتھوں وہ سب ضائع ہو گئیں؛ صرف چار جلدیں پیرس میں ملتی ہیں، اسی مخطوطے پر متعدد لوگوں نے کام کیا۔)

تدریسی و عملی زندگی: 15 دسمبر 1975ء تا 15 فروری 1976ء وہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے، پھر 16 اگست 1976ء میں بہ حیثیت اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ان کا تقرر ہوا، 10 اپریل 1988ء میں اسی شعبے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بنائے گئے، پھر 19 دسمبر 1997ء تا 25 دسمبر 2016ء اسی شعبے میں بہ حیثیت پروفیسر تدریسی خدمات انجام دیں۔ نیز وہ تین بار شعبۂ عربی کے صدر رہ چکے ہیں: پہلی بار 1999 تا 2000ء؛ دوسری مرتبہ 2003 تا 2006ء اور تیسری دفعہ 2011 تا 2014ء۔ اسی طرح 10 جولائی 2014ء سے 9 جولائی 2016ء تک انھوں نے فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بالآخر 24 دسمبر 2016ء کو وہ ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ اس درمیان وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کے مختصر مدت کے لیے رخصت پر جانے کے موقع سے تین بار انھوں نے بطور وائس چانسلر بھی خدمات انجام دیں۔

قلمی و ادبی زندگی:

تصانیف:
• المَقريزي: حياته، بيئته، آثاره (عربی؛ 1994ء، مطبوعہ: جامعہ سلفیہ پریس، بنارس)
• اسواق عرب کا مختصر تعارف (2003ء؛ مطبوعہ: شعبۂ عربی زبان و ادب، اے ایم یو)
• کتاب المقفی الکبیر جلد سوم (تحقیق و تعلیق؛ 2008ء، مطبوعہ: دائرۃ المعارف حیدرآباد)
• مختصر تاریخ ادب (زیر طبع)

مضامین و مقالات: عربی و اردو کے متعدد و مقتدر قومی و بین اقوامی رسائل و جرائد میں ان کے پچاس مقالے شائع ہو چکے ہیں، ان کے اردو مضامین میں ”فلسطینی مزاحمتی شاعری“ (مطبوعہ: فکر و نظر علی گڑھ، ج: 45، ش: 4، دسمبر 2008ء)، ”ہندوستان سے متعلق البیرونی اور ابن بطوطہ کے تاثرات کا موازنہ“ (مطبوعہ: فکر و نظر علی گڑھ، ج: 46، ش: 4، دسمبر 2009ء)، ”اڈیا زبان و ادب پر عربی اور فارسی کے اثرات“ (مطبوعہ: فروغ ادب، اپریل تا جون 2013ء) اور ”اسلامی مملکت میں ڈاک کا نظام“ جیسے مضامین قابل ذکر ہیں۔

نیز 2003 سے 2006ء کے دوران وہ شعبہ عربی اے ایم یو سے نکلنے والے عربی جریدہ ”المجمع العلمی الہندی“ کے تین شماروں کی ادارت بھی کر چکے ہیں، اور اس میں شائع متعدد عربی مضامین زیور طبع سے آراستہ ہوئے۔

اسفار: انھوں نے 2006ء میں وزیرِ انسانی وسائل کی ترقی (ایچ آر ڈی) جناب ارجن سنگھ کے ہم راہ ہائی پاور ڈیلی گیشن کی وفد میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا، جس میں اس وقت کے شاہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ایک خطیر رقم عرب کلچر سنٹر کے قیام کے لیے عطا کیا۔ ان کے علاوہ کراچی، ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا کے بین اقوامی سیمیناروں اور پچاسوں نیشنل سیمیناروں میں شریک ہو کر مقالے پیش کر چکے ہیں۔

اعزازات و مناصب: عربی زبان و ادب میں خدمات کے لیے وہ 2012ء میں ”سرٹیفکٹ آف آنر“ کے لیے نامزد کیے گئے اور 17 جنوری 2014ء کو راشٹر پتی بھون، نئی دہلی میں تیرھویں صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے ہاتھوں ”سرٹیفکٹ آف آنر“ سے نوازا گیا۔
   2017ء میں انھیں ”آل انڈیا ایسوسی ایشن آف عربک ٹیچرز اینڈ اسکالرز“ کی طرف سے ”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔

   2011ء میں ”ریاض بین اقوامی کتابی میلے“ میں ہندوستانی سفارت خانے کی طرف سے، اسی طرح نومبر 2005ء میں کراچی میں ”شیخ زاید اسلامک سنٹر“ میں انھیں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ہدیۂ تبریک پیش کیا گیا تھا۔

    ان کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی، ڈی لٹ وغیرہ کرنے والے طلبہ/ریسرچ اسکالرز میں 10 ایم فِل اور 18 پی ایچ ڈی کرنے والے حضرات بھی شامل ہیں۔

   ان کے علاوہ ان کے زیر نگرانی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف انڈیا (UGC) کے ڈی ایس اے (DSA) اور سی اے ایس (CAS) اسکیموں کے تحت آٹھ منصوبوں پر کام ہوا ہے؛ اسی طرح دسیوں سیمیناروں کی کنوینر، کوآرڈینیٹر اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے نگرانی کی ہے۔

    آسام یونیورسٹی (سلچر)، بنارس ہندو یونیورسٹی (وارانسی)، برکت اللہ یونیورسٹی (بھوپال)، بی جی ایس بی یونیورسٹی (راجوری)، کلکتہ یونیورسٹی (کولکاتا)، انگلش اینڈ فورین لینگویج یونیورسٹی (حیدرآباد)، گوہاٹی یونیورسٹی (گوہاٹی)، جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی)، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی)، کشمیر یونیورسٹی (سری نگر)، لکھنؤ یونیورسٹی (لکھنؤ) (مدراس یونیورسٹی (چنئی)، ناگپور یونیورسٹی (ناگپور)، عثمانیہ یونیورسٹی (حیدرآباد)، پٹنہ یونیورسٹی (پٹنہ)، ممبئی یونیورسٹی (ممبئی) اور دہلی یونیورسٹی (دہلی) کے ”بورڈ اینڈ اسٹاف سلیکشن کمیٹیز“ میں ایک ماہر (export) یا ممتحن (examiner) کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

     بہار پبلک سروس کمیشن (پٹنہ)، جموں اینڈ کشمیر پبلک کمیشن (سری نگر)، راجستھان پبلک سروس کمیشن (اجمیر)، یونین پبلک سروس کمیشن (نئی دہلی)، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی؛ نئی دہلی)، یو پی پبلک سروس کمیشن (الہ آباد)، ویسٹ بنگال پبلک سروس کمیشن (کولکاتا) اور آندھرا پردیش پبلک سروس کمیشن (حیدرآباد) کے ماہر کمیٹی ممبر یا یونین یا اسٹیٹ پبلک سروس کمیشنوں کے ایگزامینر رہ رہ چکے ہیں۔


خصوصی مجالس/تنظیموں کے رکن:

رکن اکیڈمک کونسل، بی جی ایس بی یونیورسٹی، راجوری، جموں و کشمیر

رکن رابطۂ ادب اسلامی، انڈین چیپٹر، لکھنؤ

رکن انڈین اکیڈمی آف عربک، علی گڑھ

رکن مجلس ادارت، ’أقلام واعدة‘، حیدرآباد

رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم تاج المسجد بھوپال

رکن فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

رکن مجلس مشاورت، مجلہ الثقافۃ الاسلامیہ، شیخ زید اسلامک سنٹر، کراچی، پاکستان

رکن مجلس مشاورت، جرنل آف عربی ریسرچ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، پاکستان

اے ایم یو، علی گڑھ میں مناصب و ذمہ داریاں: شعبہ عربی کے چیئرمین، ڈین فیکلٹی آف آرٹس، یو جی سی اسکیموں کے کوآرڈینیٹر، غیر ملکی کے داخلے کے لیے کوآرڈینیٹر، پرووسٹ، اسسٹنٹ، پراکٹر، اسسٹنٹ، ڈین ویلفیئر اسٹوڈنٹ، مختلف ہاسٹلوں میں وارڈن اور اے ایم یو علی گڑھ سوئمنگ کلب کے صدر، مجلس تعلیمی و مجلس شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں۔

تلامذہ:
     ان کے تلامذہ میں یہ حضرات بھی شامل ہیں:
1. پروفیسر مسعود انور علوی، سابق صدر شعبۂ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
2. پروفیسر محمد صلاح الدین عمری، سابق صدر شعبۂ عربی و ڈین فیکلٹی آف آرٹس اے ایم یو
3. پروفیسر محمد سمیع اختر، سابق صدر شعبۂ عربی اے ایم یو
4. پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی (بلادِ عربیہ میں ”علامہ ہندی“ کے نام سے معروف)، موجودہ صدر شعبۂ عربی اے ایم یو
5. پروفیسر مسز تسنیم کوثر، شعبۂ عربی اے ایم یو
6. ڈاکٹر عبد الجبار، ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ عربی اے ایم یو
7. پروفیسر قاضی عبد الماجد کشمیری، سابق صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
8. پروفیسر سید حسنین اختر، موجودہ صدر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی
9. پروفیسر سید علیم اشرف جائسی، موجودہ صدر شعبۂ عربی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد
10. پروفیسر محی الدین آزاد، صدر شعبۂ عربی شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ
11. ڈاکٹر جمشید احمد، صدر شعبۂ عربی، ممبئی یونیورسٹی، ممبئی
12. ڈاکٹر قمر اقبال، ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبۂ عربی لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ
13. ڈاکٹر محمد طارق ظلی، اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ عربی لکھنؤ یونیورسٹی
14. ڈاکٹر محمد عز الدین، اسسٹنٹ پروفیسر کاسرگوڈ، کیرالا
15. جناب عبد الحق حقانی القاسمی، معروف اردو ادیب و تنقید نگار
16. ڈاکٹر ذبیح اللہ تسنیم، حال مقیم ابہا، مملکت سعودی عربیہ
17. ڈاکٹر محمد انس، حال مقیم سڈنی، آسٹریلیا
18. ڈاکٹر زرنگار، اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ عربی جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
19. ڈاکٹر محمد اجمل، اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ عربی جے این یو، نئی دہلی
                  [ایک یادگار ملاقات]
   اللّٰہ تعالیٰ عربی زبان و ادب کے لیے موصوف کی خدمات کو قبول فرمائے، آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے اور ہمیں بھی ان کی خصوصیات میں سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مفتی اشتیاق احمد قاسمی دربھنگوی: مختصر سوانحی خاکہ

مولانا مفتی اشتیاق احمد قاسمی دربھنگوی: مختصر سوانحی خاکہ محمد روح الامین میوربھنجی       مولانا مفتی اشتیاق احمد قاسمی دربھنگوی سرزمینِ بہا...