اشاعتیں

فروری, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تذکرہ مولانا محمد عثمان معروفی (1928ء - 2001ء)

تذکرہ مولانا محمد عثمان معروفی (1928ء - 2001ء) 📝 محمد روح الامین میوربھنجی      مولانا محمد عثمان معروفی رحمۃ اللّٰہ علیہ (1347ھ م 1928ء - 1422ھ م 2001ء) ایک مشہور مصنف، مؤرخ، سوانح نگار، فن تاریخ گوئی کے ماہر، ایک کامیاب مدرس اور ایک مایۂ ناز عالم دین تھے، وہ 1950ء سے 1995ء تک تقریباً نصف صدی تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اس کے بعد 1997ء تا 2001ء اپنی وفات تک چار سال ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور کے مدیر و ایڈیٹر رہے۔ ان کے بارے میں مندرجۂ ذیل کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے بندہ نے یہ مضمون تیار کیا ہے: (1) نقوش عثمان کردار و آثار کے چند زاویے از مولانا انصار احمد معروفی، (2) ایک عالمی تاریخ، (3) مشاہیر کوپا گنج، (4) مشاہیر پورہ معروف۔ (5) دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ از ڈاکٹر مولانا محمد اللّٰہ خلیلی قاسمی اور دیگر کئی کتابوں سے موصوف کے بعض اساتذہ کے سنینِ وفات ماخوذ ہیں۔ ولادت و خاندان       ان کی ولادت 20 جمادی الاولی 1347ھ مطابق 4 نومبر 1928ء بہ روز اتوار محلہ بانسہ، پورہ معروف، ضلع اعظم گڑھ (جو اس وقت ضلع مئو میں آتا ہے) میں ہوئی۔ تاریخی نام...

ظلم نہ سہیں اور نہ ہونے دیں

ظلم نہ سہیں اور نہ ہونے دیں 📝 محمد روح الامین میوربھنجی      جنوبی ہند کی نادَر قوم؛ جن کو معاشرے میں ادنیٰ سمجھا جاتا تھا؛ یہاں تک کہ ان کی عورتوں کو سینہ ڈھانکنے کے لیے بھی ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا! https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%28%D8%B0%D8%A7%D8%AA%29?wprov=sfla1      پھر کیا تھا؛ انھوں نے اپنے حق کے لیے لڑائیاں لڑیں اور اپنے حقوق حاصل کرکے چھوڑے، (اس حق کی لڑائی کو 'بغاوتِ چَنّار' کہا جاتا ہے https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DA%86%D9%86%D8%A7%D8%B1?wprov=sfla1) پھر انھوں نے اپنی حیثیت و شناخت بنائی، اپنی تعلیم پر توجہ دی، اپنی معیشت درست کی، آج انھیں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، آج انھیں ایک ترقی یافتہ قوم کہا جاتا ہے۔            یہاں دیے گئے دونوں لنکوں کے ذریعے آپ اردو میں اس برادری اور قوم کے بارے خاصے معلومات حاصل کر سکتے ہیں، بندہ نے انھیں انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔

ویکیپیڈیا پر کام کرتے ہوئے میری خود سے ملاقات ہوئی!

ویکیپیڈیا پر کام کرتے ہوئے میری خود سے ملاقات ہوئی! 📝 محمد روح الامین میوربھنجی     ایک سال ہوگئے الحمد للّٰہ ویکیپیڈیا پر کام کرتے ہوئے۔ میں مدرسے کا طالب علم ہوں، دار العلوم دیوبند میں پڑھتا ہوں، لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر پر تھا، تو اس وقت میں نے اپنے علاقے کے تعلق سے کچھ کام نہ پاکر، اردو میں برسر عام کوئی مواد نہ پاکر کسی طرح ویکیپیڈیا سے جڑا اور اس وقت میں نے ایک مضمون کے تاریخچہ پر فیصل انس بھائی کا نام دیکھا، پھر ان سے بات ہوئی، انھوں نے حوصلہ افزائی فرمائی، بہت ہاتھ بٹایا، پھر عاقب انجم عافی سے رابطے کا مشورہ بھی دیا کہ وہ علماء و مدارس اور اس طرح کے عنوانات پر کام کرتے ہیں، تو میں نے ان کے مضامین دیکھے، اُردو ویکیپیڈیا پر پہلے ان کے انگریزی مضامین کے ترجمے بھی شروع کیے، دینی موضوعات سے ہٹ کر بھی کئی مضامین کا اردو میں ترجمہ کیا، مجھے اتنی انگریزی آتی ہے کہ میں لغت دیکھ دیکھ کر جملوں کے ترجمے کر سکتا ہوں، لیکن وقت کہاں؟ اس لیے انگریزی ویکی مضامین سے ایک دو جملوں کو سنبھال کر پہلے اس کا گوگل ٹرانسلیٹ کے ذریعے ترجمہ کرتا، پھر اس کے نوک و پلک سنوارتا، بعض تعبیرات میں ردوبدل...

تذکرہ مولانا سید حسین احمد قاسمی عارف گیاوی (1941ء - 2020ء)

تصویر
تذکرہ مولانا سید حسین احمد قاسمی عارف گیاوی (1941ء - 2020ء) محمد روح الامین میُوربھنجی (نواسۂ حضرت عارف گیاویؒ)      حضرت مولانا سید حسین احمد قاسمی گیاوی رحمہ اللّٰہ سزمینِ بہار کے ایک نامور فاضلِ دیوبند اور نعت گو شاعر تھے، جنھوں نے تقریباً اپنی پوری زندگی خدمت دین میں گزار دی اور نصف صدی تک امامت کے فرائض انجام دیے۔ نیز 1983ء سے 2010ء تک 27 سال جامع مسجد، ساکچی، جمشید پور، جھارکھنڈ کے امام و خطیب رہے۔ ولادت و نام      10 محرم الحرام 1360ھ بہ مطابق 7 فروری 1941ء کو موضع نگانواں، نزد جہان آباد، ضلع گیا، صوبہ بہار میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ماجد حافظ محمد مسلمؒ (متوفی: 1364ھ م 1944ء) نے شیخ الاسلام رحمہ اللّٰہ سے عقیدت کی بنا پر ان کا نام حسین احمد رکھا۔  بچپن ہی میں 1944ء کو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ تعلیم و تربیت     جب وہ تین سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، اس کے بعد بعمر چار سال اور چار ماہ ان کی رسم بسم اللّٰہ اپنے نانیہال دیورہ، ضلع گیا کے مکتب میں ہوئی۔ اس کے بعد ان کے والد رحمۃ اللّٰہ علیہ کی وصیت کے...

ابو الحیا مولانا قاری محمد فخر الدین فخرؔ گیاویؒ: حیات و خدمات

ابو الحیا مولانا قاری محمد فخر الدین فخرؔ گیاویؒ: حیات و خدمات محمد روح الامین میُوربھنجی         ابو الحیا مولانا قاری محمد فخر الدین فخر گیاوی صوبہ بہار کے مشہور و مقبول فضلائے دار العلوم دیوبند میں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مدنی کے اجل خلفاء میں سے تھے، انھوں نے تقریباً نصف صدی تک تدریس اور انتظام مدرسہ کے فرائض انجام دیے، مدرسہ قاسمیہ رنگون کے بانی تھے، ایک بہترین نعت گو شاعر اور نثر نگار تھے، اسم با مسمی تھے؛ گویا دین و اہل دین کے لیے سراپا قابلِ فخر تھے، جمعیت علمائے ہند کا مشہور ترانہ ”یہ لہراتا نظر آتا ہے حزب اللّٰہ کا جھنڈا“ انھیں کا ادبی شاہکار ہے۔ بندہ نے بھی ان سے متعلق بکھری باتوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے متعلق کئی لوگوں نے لکھا ہے، مولانا سید احمد اللّٰہ ندوی نے ”تذکرہ مسلم شعرائے بہار (حصہ سوم)“ میں، مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی نے ”تذکرہ علمائے بہار (جلد اول)“ میں ان کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کیا ہے، ڈاکٹر فرحانہ شاہین نے ”بہار میں اردو کی نعتیہ شاعری کا تنقیدی مطالعہ“ میں ان کا سوانحی تذکرہ کرتے ہوئے مزید ان کے اسلوب و طرزِ کلام پر روشنی ڈالی ہ...