اشاعتیں

ستمبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بندہ کے لیے اعزاز

تصویر
Aaqib Anjum Aafī , Founder of Deoband Community Wikimedia User Group ( DCW ) wrote to me: " Dear Md. Ruhul Amin, Thanks for your contributions to the July 2022 drive of the Deoband Yoruba Collaborative Project. I am happy to present you a certificate of appreciation. Have a nice time ahead! Sincerely, Aaqib Aafi "  ترجمہ: عاقب انجم عافی، دیوبند کمیونٹی ویکیمیڈیا یوزر گروپ (DCW) کے بانی نے مجھے لکھا:  "محترم محترم روح الامین،  دیوبند یوروبا کولیبریٹو پروجیکٹ کی جولائی 2022ء کی مہم میں آپ کے تعاون کا شکریہ۔  میں آپ کو تعریفی سند پیش کرتے ہوئے خوش ہوں۔  آگے اچھا وقت گزرے!  دل سے،  عاقب عافی"     نوٹ : بندہ نے نائیجیریا اور ہندوستان کے دو ویکی جماعتوں کے اس پراجیکٹ میں اول درجہ حاصل کیا تھا الحمد للّٰہ  دیوبند کمیونٹی ویکیمیڈیا اور دیوبند یوروبا کولیبریٹو پروجیکٹ کے بارے میں جاننے کے لیے نیچے دیے لنکس کے ذریعے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے 1. https://meta.wikimedia.org/wiki/Deoband_Community_Wikimedia/ur 2. https://meta.wikimedia.o...

پھوپھا حضرت مولانا محمد شیث صاحب غازی بوکاروی رحمۃ اللّٰہ علیہ (1956ء - 2022ء)

پھوپھا حضرت مولانا محمد شیث صاحب غازی بوکاروی رحمۃ اللّٰہ علیہ (1956ء - 2022ء) محمد روح الامین میُوربھنجی     ہر انسان کی زندگی میں کچھ لوگ بہت ہی قریبی ہوتے ہیں اور جن کی یادیں اَنمِٹ نقوش بن کر دلوں میں نقش ہو جاتی ہیں، جن کی یادوں سے آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور یادیں آکر غموں کی لہر چھوڑ جاتی ہیں، میرے لیے ایک ایسی ہی ذات تھی پھوپھا حضرت مولانا محمد شیث صاحب غازی بوکاروی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی، بندے سے ان کا بہت ہی دردمندانہ اور مشفقانہ تعلق تھا، میری تعلیم و تربیت کی فکر انھیں بھی تھی، چوں کہ والد صاحب کے پھوپھا زاد بہنوئی تھے تو انھیں پھوپھا کہ کر پکارتا تھا، حالیہ سالوں میں جب وہ میرا کوئی مضمون پڑھتے تو بہت خوش ہوتے تھے، میرے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے تھے اور مجھ سے جب ملاقات یا بات ہوئی تو میری حوصلہ افزائی بھی فرمائی، نیز میری ننھیال اور میرے نانا جان حضرت مولانا سید حسین احمد قاسمی عارف گیاوی رحمۃ اللّٰہ علیہ، سابق امام و خطیب جامع مسجد ساکچی، جمشید پور سے بھی ان کا نیاز مندانہ و عقیدت مندانہ تعلق تھا، والد صاحب کا رشتہ سمجھ لیجیے انھیں کی بدولت اس خانوادۂ نیک نام...

مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمی: حیات و خدمات

تصویر
مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمی: حیات و خدمات محمد روح الامین میُوربھنجی      حضرت مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمی ایک عالم دین، بلند پایہ مصنف، فن اسماء الرجال کے ماہر اور دار العلوم دیوبند کے استاذِ حدیث اور ’’شیوخ الامام ابی داؤد السجستانی فی کتاب السنن‘‘، ’’تذکرہ علمائے اعظم گڑھ‘‘، ’’اجودھیا کے اسلامی آثار‘‘ اور ’’بابری مسجد حقائق اور افسانے‘‘ سمیت کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ بندہ کو تین دنوں تک مولانا مرحوم کے دسترخوان پر مولانا مرحوم کے ساتھ کھانا میسر ہوا تھا۔ مولانا چہرے سے بارعب معلوم ہوتے تھے؛ مگر خوش طبع اور خوش اخلاق تھے۔ جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی نگاہوں مولانا مرحوم کے مشورے وقعت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔            مختصر سوانح        ولادت و تعلیم         مولانا مرحوم 1361ھ بہ مطابق 1941ء کو جگدیش پور، ضلع اعظم گڑھ، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ناظرہ، قرآن اور فارسی کی ابتدائی کتابوں تک اپنے قریہ میں پھر ایک قریبی قریہ برئی پور میں حا...

حضرت مولانا محمد جابر صاحب قاسمی بنجھار پوریؒ (1943–2020ء): مختصر سوانحی خاکہ

حضرت مولانا محمد جابر صاحب قاسمی بنجھار پوریؒ (1943–2020ء): مختصر سوانحی خاکہ محمد روح الامین میُوربھنجی     سر زمین اڈیشا کے مایۂ ناز و قابل فخر علمائے دین، جنھوں نے اہلِ اڈیشا کے دین و ایمان کی حفاظت و پاسداری کے لیے بے پایاں قربانیاں دی ہیں، ان میں ایک معروف نام حضرت مولانا محمد جابر صاحب قاسمی بنجھار پوریؒ کا ہے۔ وہ فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ کے خلیفۂ اجل اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ اور فخر المحدثین حضرت مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ کے تلمیذ رشید تھے۔ آپ تقریباً نصف صدی تک اڈیشا میں دینی، تعلیمی، تربیتی، اصلاحی اور معاشرتی خدمات انجام دیتے رہے۔ تقسیمِ جمعیت کے ماقبل و مابعد؛ ہر دو زمانوں میں انھوں نے جمعیت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اخیر عمر میں تقریباً تیرہ سال جمعیۃ علمائے اڈیشا (میم) کے صدر رہے۔ اب ان کا مختصر سوانحی خاکہ قارئین کے حوالے کرتا ہوں، اڈیشا کے معروف ماہنامہ صدائے اڑیسہ کے ماہ دسمبر 2020ء کے شمارے میں مولانا مرحوم پر شائع مضمون سے بندہ نے استفادہ کیا ہے، نیز اپنی دانست و تحقیق کے مطابق بعض مزید چیزوں کا بھی...

پروفیسر ظفر احمد نظامی اور ”قلمی خاکے“

تصویر
پروفیسر ظفر احمد نظامی اور ”قلمی خاکے“ کتاب: قلمی خاکے (مشہور شخصیات کا جامع تعارف) مصنف: پروفیسر ظفر احمد نظامی مرتبہ: ڈاکٹر شمع افروز زیدی صفحات: 264 ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، جوگا بائی، نئی دہلی تبصرہ نگار: محمد روح الامین میُوربھنجی        ”قلمی خاکے“ کے نام سے تصویر میں نظر آ رہی تصنیفِ لطیف اسلوبِ نگارش میں عمدہ، حسن تعبیر کا شاہکار اور اردو ادب کے حسن کا آئینہ دار ہے، جو پروفیسر ظفر احمد نظامی کے قلمی خاکوں کا مجموعہ ہے اور ڈاکٹر شمع افروز زیدی مدیر ماہنامہ بیسویں صدی دہلی کا مرتب کیا ہوا ہے۔        پروفیسر نظامی کا تعلق سیاسیات سے تھا، وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر تھے؛ مگر انھوں نے دیگر خدمات کے ساتھ ساتھ تاریخ میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں، ان کے اسلوبِ نگارش کا کیا کہیے!! وہ صاحب کمال ہیں، خود میں اک مثال ہیں۔        خاکہ نگار کا تعارف      پروفیسر نظامی کے والد حکیم جمیل احمد شیرکوٹ، ضلع بجنور سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے طبیہ کالج، دہلی سے سندِ طب ...

حسین احمد عارف گیاوی کی وفات پر لکھی گئی یادگار تحریر

عصر حاضر کا حسین بھی رخصت ہوگیا   مولانا محمد شاہد الناصری الحنفی، مدیر مکہ میگزین، ممبئی (لاک ڈاؤن سے قبل لکھی ہوئی یادگار تحریر)        آہ صد آہ  یہ کیسی خبر ملی کہ  دل پھر  فگار ہوگیا، فکر جامد ہوگئی اور قلم بھی چلنے سے رک گیا کہ وہ لکھے تو کیا لکھے اور کس کے لیے لکھے، یہ کیا لکھ دیا خالد نے پتہ نہیں یہ کیوں لکھ دیا کہ:   "ابی نہیں رہے"۔ بس کیا تھا کہ لمحوں نے قلب وفکر کو ایک دوسرے سے جدا جدا کردیا، اب قلم بھی آمادہ نہیں کہ خالو جان کے لیے کچھ خامۂ حقیقت رقم کرسکے۔ آج غالبا پانچواں دن ہے اور وہ بھی پنجتن پاک کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔  1941ء میں حافظ سید محمد مسلم کے یہاں جہان آباد میں خاکدان فانی کے ایک گھر میں ایک حسین ترین بچے کا ظہور ہوا، ہاتف غیبی نے رہنمائی کی اور اس بچے کا نام اس خاکدان فانی کو لالہ زار اور جہاں آباد بنانے والے مکہ کے در یتیم کے نام اور ان کے اس نواسہ کے نام کو شامل کرکے (حسین احمد) سے موسوم کردیا گیا۔ اور سارا جہان ان کے اسی نام سے متعارف ہوا۔ اورخصوصیات بھی وہی ودیعت کی گئی کہ: نرغے میں دشمنوں کے اکیلا ...

حضرت مولانا ندیم الواجدی مد ظلہ: ایک معروف صاحب علم

تصویر
حضرت مولانا ندیم الواجدی مد ظلہ: ایک معروف صاحب علم محمد روح الامین میُوربھنجی    حضرت مولانا ندیم الواجدی ایک معروف و مشہور کالم نگار، مضمون نگار، نقاد، سوانح نگار، مصنف، مترجم، اردو و عربی زبان کے ادیب اور مایۂ ناز عالمِ دین ہیں۔ ماہنامہ ترجمانِ دیوبند کے مدیر اور مشہور کتب فروش کتاب گھر دار الکتاب دیوبند کے مالک ہیں۔ بندہ نے خود مولانا سے ملاقات کرکے مولانا سے متعلق اردو ویکیپیڈیا پر تحقیقی مضمون لکھا تھا، جس کو الگ سے سپردِ قرطاس کر رہا؛ کیوں کہ ویکیپیڈیا پر کوئی تحریر ذاتی نہیں ہوتی اور وہاں کوئی بھی ترمیم کر سکتا ہے۔                  ابتدائی و تعلیمی زندگی     ولادت    ان کی ولادت 23 جولائی 1954ء کو دیوبند، ضلع سہارنپور، بھارت میں ہوئی۔[1][2] پیدائشی نام واصف حسین ہے، جو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا تجویز کردہ ہے۔[3]      خانوادہ     ان کا خانوادہ بھی علمی تھا، ان کا خاندان تقریباً ڈیڑھ صدی قبل بجنور سے دیوبند میں آکر آباد ہوا۔ ان ک...

مولانا نور عالم خلیل امینی رحمۃ اللّٰہ علیہ: حیات و خدمات

تصویر
مولانا نور عالم خلیل امینی رحمۃ اللّٰہ علیہ: حیات و خدمات محمد روح الامین میُوربھنجی    حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رحمۃ اللّٰہ علیہ ہندوستان کے ایک نامور قلمکار، مصنف اور عربی و اردو کے مایۂ ناز ادیب تھے۔ وہ دار العلوم دیوبند میں تقریباً چالیس سال عربی ادب کے استاذ اور مجلہ الداعی کے مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ عربی و اردو؛ دونوں ہی زبانوں کے باکمال مصنف تھے، مختلف مدارس کے درس نظامی و تکمیلِ عربی ادب کے نصاب میں بالترتیب ان کی کتابیں مفتاح العربیہ اور متی تكون الكتابات مؤثرة؟ داخل ہیں اور اول الذکر کتاب کئی اسکولوں کے میں بھی داخلِ نصاب ہے۔  گزشتہ سال دار العلوم دیوبند میں طلبۂ صوبہ بہار، اڈیشا، جھارکھنڈ و نیپال کی محبوب انجمن کے تحت مولانا مرحوم پر سال بھر کے کسی پروگرام میں صحافتی مسابقہ بھی رکھا گیا، جس میں بعض احباب نے اور خود بزم سجاد کے ناظم مولانا مبارک ارریاوی نے بھی بندہ کو حصہ لینے کا مشورہ دیا، بندہ نے جس میں حصہ نہ لے کر یہ خیال کیا کہ اردو ویکیپیڈیا پر تحقیقی مضمون لکھ دوں، جہاں سے بڑی تعداد استفادہ کر سکتی ہے، اسی غرض سے ویکیپیڈیا پر من...