اشاعتیں

نومبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حضرت مولانا عبد الوحید صاحب قاسمی چٹراوی

حضرت مولانا عبد الوحید صاحب قاسمی چٹراوی 📝 محمد روح الامین میوربھنجی ولادت: 10 دسمبر 1966ء میں آپ کی ولادت ہوئی۔ تعلیم:  انھوں نے ابتدائی نورانی قاعدہ وغیرہ کی تعلیم؛ حضرت مولانا ابراہیم صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سے حاصل کی، پھر ابتدائی عربی فارسی  کی تعلیم؛ مدرسہ اسلامیہ مدینۃ العلوم خوشمنڈل میں ہوئی، وہاں ان کے اساتذہ میں حضرت مولانا نظام الدین قاسمی و حضرت مولانا صابر علی قاسمی صاحبان شامل تھے۔ پھر سال عربی سوم میں جمشید پور، جھارکھنڈ کے ہندو مسلم تنازعات کی وجہ سے دیر سے بعد عید الاضحیٰ دار العلوم دیوبند پہنچے، جس وقت داخلہ بند ہوچکا تھا، جس کی وجہ سے چھ مہینہ سروٹ میں پڑھائی کی، پھر اگلے سال؛ دار العلوم دیوبند میں عربی چہارم میں داخلہ ہوا۔ دار العلوم دیوبند سے فراغت: 1985ء میں دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے۔ پھر 1986ء میں وہیں پر ایک سال رہ کر تفسیر کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے دار العلوم دیوبند کے اساتذہ: حضرت مولانا نصیر احمد خان رحمۃ اللّٰہ علیہ؛ جن سے انھوں نے صحیح البخاری پڑھی۔ حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ حضرت مولانا ریاست علی بجنوری رحمۃ ا...

حضرت مولانا آصف اقبال صاحب قاسمی بھاگلپوری

حضرت مولانا آصف اقبال صاحب قاسمی بھاگلپوری 📝 محمد روح الامین میوربھنجی   استاذ محترم حضرت مولانا محمد آصف اقبال صاحب قاسمی بھاگلپوری دامت برکاتہم العالیہ سے میں نے فارسی کے سال جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی، محلہ خانقاہ دیوبند میں 2013-2014ء میں علومِ فارسی نامی کتاب پڑھی تھی، پھر 2015ء میں  آغاز سال میں تعلیم شروع ہونے کے بعد عید الاضحیٰ کی تعطیل تک جو کچھ پڑھا تھا، اس وقت بیمار پڑ گیا تھا تو والد صاحب نے مناسب سمجھا کہ عربی دوم کی تکمیل اڈیشا ہی میں کر لوں؛ اس سال میں نے عربی دوم جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم سونگڑہ، کٹک میں پوری کی، پھر اگلے سال کسی سبب سے دار العلوم میں داخلہ نہ ہو ہونے کے بعد دوبارہ جامعۃ الشیخ میں داخلہ لے لیا اور عید الاضحیٰ سے قبل والے امتحان میں اول پوزیشن، ششماہی امتحان میں سوم پوزیشن اور سالانہ امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی اور اس کے بعد دار العلوم دیوبند اور دار العلوم وقف دیوبند؛ دونوں ہی جگہ داخلہ ہوگیا۔ ایک دفعہ میں نے استاذ محترم سے ملاقات کی اور ان کی زندگی سے متعلق کچھ سوالات کرکے گفتگو کو اجازت کے ساتھ ریکارڈ کر لیا اور بعد میں اپنے انداز میں اس...

حضرت مولانا محمد اکرام صاحب نین پوری

حضرت مولانا محمد اکرام صاحب نین پوری 📝 محمد روح الامین میوربھنجی ولادت:   آپ کی ولادت سن 1973ء میں ہوئی۔ تعلیم: ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں نین پور، ٹینڈاکوڑہ، ضلع کیندرا پاڑہ میں ہوئی۔ اس کے بعد مدرسہ مدینۃ العلوم، خوشمنڈل میں عربی فارسی کی کافیہ و قدوری تک کی تعلیم حاصل کی۔ مکمل تعلیم کے لیے مدرسہ بنجھارپور میں 1995ء میں شیخ الاسلام حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے شاگرد اور جونیر و سینیر مدرسہ بنجھارپور کے پرنسپل شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد الغفار قاسمی رحمہ اللّٰہ سے بخاری تک کی کتابیں پڑھ کر فاضل حدیث مکمل کیا، حضرت مولانا محمد جابر صاحب قاسمی سے مشکوٰۃ پڑھی تھی، مفتی محمد غفران صاحب کٹکی اور مولانا امان اللہ صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ بھی موصوف کے اساتذہ میں ہیں۔ 1996ء میں فاضل اردو کی تکمیل کی اور انگریزی میں گریجویشن مکمل کیا، پھر گھر واپس آگئے۔ فراغت:  فارغ التحصیل ہونے کے دو سال بعد گاؤں کے اسکول میں سرکاری ملازمت لگ گئی، فی الحال (2021ء کے مطابق) "فضل حق ہائی اسکول، ٹینڈاکوڑہ " میں فارسی کی استاذ کی حیثیت سے 21 سال سے تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اپنے م...

نظام قدرت ہی سراپا باعثِ خیر ہے

نظام قدرت ہی سراپا باعثِ خیر ہے                                       محمد روح الامین      ہم اپنی زندگی کا اگر جائزہ لیں تو ہمیں خود میں بے شمار کمیاں نظر آئیں گی، ان کمیوں کا حاصل یہ ہے کہ ہم خالقِ حقیقی سے غافل ہو گئے، اس کے حکموں سے منھ پھیر رکھا ہے، اس کی عطا کردہ نعمتوں کا غلط اور بے جا استعمال کر رہے ہیں، اس کے بنائے ہوے نظام و قوانین میں دخل اندازی کر رہے ہیں، اس کی تخلیق کردہ قدرتی فَضا اور ماحول کو؛ آلات، مشینوں اور ٹیکنالوجیز کی آلودگیوں سے متاثر کر رہے ہیں۔    اگر ہم؛ انسانوں اور دیگر حیوانوں میں موجود؛ نو مولود اور نِت نئی بیماریوں کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ صاف نظر آئے گا کہ یہ سب؛ انسان کے باہر کی اُن صَوتی، سَمعی، آبی اور فَضائی آلودگیوں — جو ظاہری آلودگیوں سے مختلف ہیں — کی وجہ سے ہے، جو دِن بہ دِن رُونما ہونے والی نام نہاد ترقیوں کے سبب پیدا ہوئیں؛ مثلاً: کثیر تعداد میں درختوں کے کاٹے جانے سے، سمندروں میں ”میزائل ٹیسٹنگ“ کرنے سے، ”موبائل نیٹ ورکس“ سے، ...

حضرت مولانا اختر صاحب قاسمی: ٹینڈاکوڑہ، اڈیشا کی معروف شخصیت

حضرت مولانا اختر صاحب قاسمی: ٹینڈاکوڑہ، اڈیشا کی معروف شخصیت 📝 محمد روح الامین میوربھنجی    حضرت مولانا محمد اختر صاحب قاسمی ٹینڈاکوڑہ، ضلع کیندراپاڑہ، اڈیشا کے معروف عالم دین اور مقرر ہیں، اڈیشا کے معروف علماء میں ان کا شمار ہوتا ہے، بچپن سے جن علمائے اڈیشا کے بارے میں سنا تھا، ان میں مولانا موصوف کا نام بھی ہے۔ ولادت: آپ سن 1972ء کو ٹینڈاکوڑہ، ضلع کیندراپاڑہ، اڈیشا میں پیدا ہوئے تھے۔ تعلیم و تربیت: ابتدائی عربی فارسی کی تعلیم؛ مدرسہ اسلامیہ دینیہ، سبلنگ، کنی پاڑہ (موجودہ جامعہ ارشد العلوم، سبلنگ) میں ہوئی۔ حضرت مولانا جلال الدین کٹکی قاسمی رحمہ اللّٰہ آپ کے استاذ تھے۔ پھر 1986ء میں دار العلوم دیوبند میں آپ کا داخلہ ہوا اور 1990ء میں وہاں سے ان کی فراغت ہوئی ۔ دار العلوم دیوبند میں آپ کے اساتذہ: مولانا نصیر احمد خان صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ؛ ان سے بخاری شریف پڑھی۔ ​مفتی سعید احمد پالنپوری رحمہ اللّٰہ ​علامہ قمر الدین احمد گورکھپوری مد ظلہ العالی ​مفتی محمد یوسف تاؤلوی مد ظلہ العالی مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم تدریسی زندگی: فراغت کے بعد اولا مدرسہ اسلامیہ دینیہ، تلدہ میں...

حضرت مولانا محمد سلطان عالم صاحب سبلنگی

حضرت مولانا محمد سلطان عالم صاحب سبلنگی 📝 محمد روح الامین میوربھنجی ولادت: آپ 17 مارچ 1969ء کو سبلنگ، کنی پاڑہ، ضلع کٹک، اڈیشا میں پیدا ہوئے تھے۔  تعلیم: ابتدائی دینی تعلیم متوسط درجات تک مدرسہ اسلامیہ دینیہ (موجودہ نام: مدرسہ ارشد العلوم) کنی پاڑہ، سبلنگ میں ہوئی۔ اخیر میں بغرض داخلہ 1982ء میں دار العلوم دیوبند آئے اور ابھی داخلہ نہیں ہوپایا تھا؛ انتہائی غربت کی بنا پر (غربت کا عالم یہ تھا کہ اس وقت ماہانہ تیس روپے برداشت کرنا بھی مشکل ہوتا تھا) گھر واپس جانا پڑا اور اسی وقت ان کے والد محترم کا انتقال بھی ہوگیا تھا، پھر وہیں رہ کر ذاتی طور پر ایک عالم مولانا عبد القدوس صاحب قاسمی سے بخاری شریف تک کی کتابیں پڑھ کر 1988ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔ عملی زندگی: تعلیم سے فراغت کے بعد آپ مدرسہ اسلامیہ دینیہ، سبلنگ میں مدرس رہے۔ 1999ء میں حضرت مولانا جابر صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ؛ نے مولانا محمد جلال صاحب قاسمی سابق امیر شریعت اڈیشا سے طلب کرکے مولانا موصوف کو بنجھارپور، ضلع جاجپور لے گئے، وہاں پر آپ نے مکتب کا منظم نظام شروع کیا جو پہلے نہیں تھا اور اب تک قائم ہے۔ رفاہی کاموں میں بھی جڑے ...

حضرت مولانا ابو سفیان صاحب قاسمی: مختصر سوانحی خاکہ

تصویر
حضرت مولانا ابو سفیان صاحب قاسمی: مختصر سوانحی خاکہ تصویر:  مطیع اللہ بھائی کیسٹ والے (MT Media) 📝 محمد روح الامین میوربھنجی  حضرت مولانا محمد ابو سفیان صاحب قاسمی اڈیشا کے ایک مشہور عالم دین، شیریں بیاں خطیب اور مایۂ ناز فاضلِ دار العلوم دیوبند ہیں، جو 2008ء سے جمعیت علمائے اڈیشا (الف) کے نائب صدر ہیں۔ ذیل میں ان کا سوانحی خاکہ پیش خدمت ہے۔ مختصر سوانحی خاکہ      ولادت و تعلیم         18 جون 1964ء کو آخن محلہ، بالوبیسی، ضلع جگت سنگھ پور، اڈیشا میں پیدا ہوئے۔        ابتدائی عربی فارسی کی تعلیم؛ جامعہ مرکز العلوم، قاضی ہاٹ، سونگڑہ، کٹک، اوڈیشا سے ہوئی۔ آپ کے مرکز العلوم سونگڑہ کے اساتذہ میں مناظر اسلام حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی قاسمی، حضرت مولانا مفتی سید سراج الساجدین کٹکی قاسمی اور حضرت مولانا ذبیح اللہ قاسمی دربھنگویؒ سفیر دار العلوم دیوبند شامل تھے۔ دار العلوم دیوبند سے آپ  کی فراغت 1983ء بہ مطابق 1403ھ  میں ہوئی۔      آپ کے اساتذۂ دار العلوم دیوبند میں حضرت مولانا جمیل ا...

حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ: حیات و خدمات

تصویر
مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ: حیات و خدمات محمد روح الامین میُوربھنجی        مناظرِ اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی رحمۃ اللہ علیہ سر زمین اڈیشا (اڑیسہ) کی وہ شخصیت تھی، جن کے اہل اڈیشا پر دینی و ایمانی احسانات ہیں، جنھوں نے اڈیشا سے فتنۂ قادیانیت کی جڑیں اکھیڑ کر رکھ دیں؛ یہاں تک کہ برطانیہ میں بیٹھے مرزائے کاذب کے جانشینوں کو بھی حواس باختہ کر کے رکھ دیا، آپ صوبہ اڑیسہ (موجودہ نام: اڈیشا) کے اولین فضلائے دار العلوم دیوبند میں سے تھے۔     ان پر باقاعدہ کوئی کتاب نہیں آئی ہے۔ مختلف تحریریں؛ مختلف کتابوں یا رسالوں میں شائع ہوئیں، جن تک رسائی بڑی تحقیق و تلاش کے بعد ہوئی۔ ان کی وفات پر مولانا نور عالم خلیل امینیؒ نے مجلہ الداعی کے ربیع الاول–ربیع الثانی 1426ھ (مطابق اپریل–مئی 2005ء) کے شمارے میں سوانحی مقالہ لکھا تھا۔ مرکزی دفتر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت، دار العلوم دیوبند سے شائع شدہ مولانا مرحوم کے مجموعۂ مضامین ”ذرا غور کریں“ کے 2005ء اور 2012ء کے دو الگ الگ ایڈیشنوں میں، قاری سید محمد عثمان منصور پوریؒ کی طرف منسوب بہ طور حالات مصنف؛ مولان...