مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ
(مُجازِ صحبتِ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ)
اڈیشا میں مسلکِ دیوبند، اصلاحِ عقائد اور تصوفِ صحیح کی جو بنیادیں قائم ہوئیں، اُن کے اولین معماروں میں حضرت مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ نہ صرف فاضلِ دار العلوم دیوبند تھے بلکہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مجازینِ صحبت میں سے تھے۔(1)(2)
آپ نے اڈیشا کے مختلف علاقوں میں امامت، خطابت، دعوت و اصلاح اور دینی بیداری کی ایسی خدمات انجام دیں جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
ولادت اور خاندانی پس منظر:
مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ کی جائے ولادت گوہالی پور، سونگڑہ، ضلع کٹک، اڈیشا تھی۔ آپ کے والد کا نام سید وزارت حسین تھا۔
آپ کی تاریخِ ولادت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ عماد القراء مرزا بسم اللہ بیگ نے آپ کی ولادت 1332ھ (مطابق 1913ء یا 1914ء) لکھی ہے؛(3) جبکہ مولانا کے نواسے حضرت مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب، مناظرِ اسلام حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مولانا اسماعیل کٹکی فرمایا کرتے تھے کہ صوفی سخاوت حسین صاحب ان سے سات سال بڑے تھے اور چونکہ مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ کی ولادت 1914ء کی ہے، اس حساب سے صوفی صاحب کی ولادت تقریباً 1907ء قرار پاتی ہے۔
ابتدائی تعلیم اور دینی ذوق:
آپ نے ابتدائی طور پر پانچ یا چھ جماعت تک اسکولی تعلیم حاصل کی؛ مگر دینی تعلیم کا شوق اس قدر غالب تھا کہ گھر والوں کی عدمِ اعتنا کے باوجود آپ نے گھر چھوڑ دیا۔
ابتدا میں پیدل جگت سنگھ پور تشریف لے گئے، جہاں آپ کے بھائی سید صدیق حسین کسی مسجد میں آخون جی تھے۔ بھائی نے پہلے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کا مشورہ دیا، مگر دینی ذوق کے غلبے کے باعث آپ وہاں سے بھی نکل کھڑے ہوئے اور کسی ساتھی کے ساتھ پیدل دھام نگر، بھدرک پہنچے، جہاں بریلوی مکتبِ فکر کے ایک مدرسے میں کچھ عرصہ قیام کیا۔
بعد ازاں مولانا حبیب الرحمن دھام نگری کے ساتھ دیوبند روانہ ہوئے۔ دیوبند میں کسی مسئلے پر دونوں کے درمیان مباحثہ ہوا، جو شیخ الادب و الفقہ حضرت مولانا محمد اعزاز علی امروہویؒ کے سامنے پیش ہوا۔ روایت کے مطابق شیخ الادب نے مولانا حبیب الرحمن کی گفتگو سننے کے بعد فرمایا: ”اس لڑکے سے مجھے بدعت کی بو آ رہی ہے۔“
اس کے بعد مولانا حبیب الرحمن غالباً دیوبند چھوڑ کر مرادآباد یا کسی دوسرے ادارے چلے گئے؛ البتہ صوفی سخاوت حسین صاحب دیوبند ہی میں مقیم رہے۔
مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب نے یہ تمام تفصیلات اپنی والدہ اور مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ کے حوالے سے بیان کی ہیں۔ البتہ مولانا حبیب الرحمن کے حالات میں نہ دیوبند جانے کا ذکر ملتا ہے اور نہ مرادآباد کا؛ اس لیے غالب گمان یہ ہے کہ ”مدرسہ نعیمیہ مرادآباد“ کی جگہ ”مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد“ مراد ہو، کیوں کہ اسی ادارے کا تذکرہ ان پر لکھے گئے مضامین میں ملتا ہے۔
دار العلوم دیوبند سے فراغت:
مولانا صوفی سید سخاوت حسینؒ نے دار العلوم دیوبند سے شعبان المعظم 1351ھ مطابق دسمبر 1932ء میں فراغت حاصل کی۔ آپ نے صحیح بخاری شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے پڑھی۔
آپ کے شرکائے دورۂ حدیث میں رئیس المدرسین دار العلوم دیوبند حضرت مولانا معراج الحق دیوبندیؒ (1910ء–1991ء) بھی شامل تھے، جبکہ فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ (1907ء–1996ء) آپ سے ایک سال پہلے کے فاضل تھے۔(4)
مناظر اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ ان سے دو سال بعد کے فارغ التحصیل تھے جبکہ مولانا مرغوب الرحمن بجنوریؒ (1914–2010ء) اور مفتی نظام الدین اعظمیؒ (1910–2000ء) ایک سال بعد کے۔(4)
دورانِ تعلیم آپ سفید مسجد، دیوبند میں امامت بھی فرمایا کرتے تھے۔
زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ:
ایک دلچسپ واقعہ مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب نے اپنے والد حضرت مولانا ذبیح اللہ قاسمی دربھنگویؒ اور مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ صوفی صاحب، مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ سے پہلے دیوبند پہنچ چکے تھے؛ مگر “شرح جامی، بحثِ فعل” میں بار بار ناکام ہو جاتے تھے۔ اس پر انھوں نے اپنے حقیقی ماموں زاد بھائی مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ سے کہا کہ وہ انھیں یہ سبق پڑھائیں۔ مولانا اسماعیل نے پڑھایا بھی؛ مگر اس کے باوجود صوفی صاحب کامیاب نہ ہو سکے۔
مولانا سید محمد اسماعیل کہتے کہ اتنا آسان ہے، پھر آپ کیسے فیل ہو جاتے ہیں تو صوفی صاحب کہتے کہ ارے! یہ شرح جامی بحث فعل ہے، میں کیسے پاس ہوؤں گا۔
بیعت و اجازتِ صحبت:
مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب کے بیان کے مطابق، دورانِ تعلیم ہر جمعرات کو صوفی صاحب پیدل تھانہ بھون حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوتے تھے اور جمعہ کی شام وہاں سے واپس چل کر سنیچر کی صبح درس شروع ہونے سے پہلے دیوبند پہنچ جایا کرتے تھے۔
حضرت تھانوی پر لکھی گئی کئی کتابوں میں مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ کا شمار حضرت حکیم الامت تھانویؒ کے “مجازینِ صحبت” میں ملتا ہے۔(1)(2) البتہ یہ اجازتِ صحبت کب عطا ہوئی، اس کی صراحت کسی ماخذ میں نہیں مل سکی اور نہ اس کی مستقل تحقیق ہو سکی۔ تاہم حضرت مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب کے بیان کے مطابق، حضرت تھانویؒ اڑیسہ اور اطراف کے لوگوں کو براہِ راست بیعت فرمانے کے بجائے پہلے صوفی صاحب سے متعلق فرما دیتے تھے۔ اس سے حضرت تھانویؒ کے یہاں ان کے اعتماد و تعلق کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
عملی زندگی:
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے محلہ رسول پور، سونگڑہ کی جامع مسجد میں امام و خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں ریمنہ، بالیسر میں دینی خدمات سرانجام دیں اور وہاں دینی فضا ہموار کرنے اور اشاعتِ حق میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اس کے بعد کھٹبن ساہی، کٹک کی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے۔ اسی دور میں ”گول ٹوپی“ اور ”لمبی ٹوپی“ کی بحث شروع ہوئی، یہاں تک کہ گول ٹوپی دیوبندیوں اور لمبی ٹوپی بریلویوں کی علامت سمجھی جانے لگی۔ یہ بات مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب نے حضرت مولانا سید سراج الساجدین قاسمیؒ کے حوالے سے نقل کی ہے۔
اوصاف و کمالات:
پرانے لوگوں کے مطابق صوفی صاحب راستے میں چلتے ہوئے بھی ذکرِ جہری میں مشغول رہتے تھے۔ پردے کا اس قدر اہتمام تھا کہ راستے میں چلتے ہوئے بھی چہرے پر نقاب ڈال لیا کرتے تھے۔ یہ تفصیلات بھی مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب کے بیان سے معلوم ہوئیں۔
جامعہ مرکز العلوم سونگڑہ سے تعلق:
جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم سونگڑہ کی جب 1946ء میں باقاعدہ پختہ تعمیر شروع ہوئی تو اس کا سنگِ بنیاد برکتاً مولانا صوفی سخاوت حسین صاحبؒ کے ہاتھوں رکھا گیا۔ آپ تاحیات مرکز العلوم کی ہیئتِ حاکمہ ”انجمن تبلیغ اسلام، سونگڑہ“ کے فعال رکن رہے۔
اولاد اور خانوادہ:
مولانا مرحوم کی دو صاحب زادیاں تھیں:
(1) عائشہ صدیقہ: تقریباً 1949ء یا 1950ء میں پیدا ہوئیں اور 3 مارچ 2026ء کو انتقال فرمایا۔ تقریباً 1968ء یا 1969ء میں حافظ سید عبد النافع عرف جمیل میاں سونگڑیؒ (متوفی: 23 جولائی 2017ء) کے نکاح میں آئیں۔ اُن سے پانچ لڑکے اور دو لڑکیاں ہوئیں، جن میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی بچپن میں وفات پا گئے۔ بقیدِ حیات افراد کے نام یہ ہیں: (1) مولانا سید شمس تبریز قاسمی عرف شمسی، مبلغ و سفیرِ دار العلوم دیوبند، (2)حافظ سید محمد وصی اللہ عرف مکین، (3) فرزانہ در مکنون عرف شرفی، (4) مولانا سید محمد مسیح اللہ عرف مولانا وسیم، (5) جناب عبد الوہاب عرف گورن۔
(2) رابعہ بصریہ: ولادت تقریباً 1951ء یا 1952ء میں ہوئی۔ آپ سابق مبلغ و سفیرِ دار العلوم دیوبند حضرت مولانا ذبیح اللہ قاسمی دربھنگویؒ (1953ء–27 اگست 2022ء) کے نکاح میں آئیں۔ اُن کی اولاد میں چھ لڑکے اور پانچ لڑکیاں بقید حیات ہیں: (1) مولوی محمد خالد سیف اللہ (درسِ عالیہ سے مولوی، ماہر، عالم)، (2) مولانا محمد اسعد اللہ قاسمی، امام و خطیب جامع مسجد چاؤلیا، ایئرسما لائن، جگت سنگھ پور، (3) مولانا محمد زعیم الاسلام قاسمی، استاذ حدیث جامعہ مرکز العلوم سونگڑہ، آفس سکریٹری و رکنِ مجلسِ عاملہ جمعیت علماء اڈیشا [الف]، (4) اہلیۂ حضرت مولانا سید شمس تبریز قاسمی، مبلغ و سفیر دار العلوم دیوبند، (5) مولانا محمد اسجد اللہ عرف نبیل قاسمی، مبلغ و سفیرِ دار العلوم دیوبند، (6) مولانا مفتی محمد سبیل الرشاد قاسمی، استاذ مدرسہ قاسم العلوم، شنکر پور، کٹک، (7) اہلیۂ حافظ محمد مدثر صاحب معصوم پوری، (8) ایک صاحب زادی، جو کیندرا پاڑہ کے مولانا عارف صاحب کے نکاح میں تھیں، (9) اہلیۂ حافظ شعیب معصوم پوری، مہتمم مکتب نعمت الاسلام، نعمت پور، معصوم پور، (10) ایک صاحب زادی، (11) حافظ و مولوی محمد ولی اللہ عرف عمیر، جنھوں نے دار العلوم دیوبند سے تکمیلِ حفظ کی اور تجوید و قراءت سے لے کر عربی پنچم تک کی تعلیم حاصل کی۔
اللہ تعالیٰ ان سب سے خوب دین کا کام لے۔ آمین۔
وفات:
مولانا صوفی سید سخاوت حسین قاسمی کٹکیؒ کا انتقال 1372ھ مطابق 1953ء میں ہوا۔ سنہ ہجری عماد القراء مرزا بسم اللہ بیگ نے “تذکرہ قاریانِ ہند” (جلد سوم) میں ذکر فرمایا ہے، جبکہ سنہ عیسوی حضرت مولانا زعیم الاسلام قاسمی صاحب نے بتایا۔
نوٹ:
اس تحریر میں مذکور بعض تفصیلات مستند مراجع و حوالہ جات سے ماخوذ ہیں، جبکہ بہت سی معلومات ذاتی معلومات، خاندانی روایات اور زبانی بیانات پر مبنی ہیں۔ خصوصاً متعدد واقعات اور جزئیات استاذِ محترم حضرت مولانا زعیم الاسلام قاسمی (استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم، سونگڑہ) اور مشفقِ محترم حضرت مولانا سید شمس تبریز قاسمی (مبلغ و سفیر دار العلوم دیوبند) صاحبان سے معلوم ہوئیں۔ فجزاہما اللہ خیر الجزاء۔
مراجع
(1) سیرتِ اشرف، مؤلفہ: منشی عبد الرحمن خان، اشاعت: ستمبر 1956ء، ادارہ نشر المعارف، چہلیک، ملتان، ص: 655۔
(2) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور ان کے خلفائے کرام، مؤلفہ: ڈاکٹر حافظ قاری فیوض الرحمن، مجلسِ نشریات اسلام کراچی، 1997ء، ص: 52۔
(3) عماد القراء جناب مرزا بسم اللہ بیگ (1970ء)۔ تذکرۂ قاریانِ ہند ۔ آرام باغ، کراچی: میر محمد کتب خانہ۔ جلد سوم، ص: 111؛ نیز جلد دوم، ص: 62۔
(4) فیضانِ علمی یعنی تلامذۂ شیخ الاسلام، دار العلوم ڈائری، ادارہ پیغام محمود دیوبند، 2015ء، ص: 19–24۔
جامع و مرتب
محمد روح الامین قاسمی
استاذ دار العلوم حسینیہ مدنی نگر، چڑئی بھول، ضلع میوربھنج، اڈیشا
8 ذی الحجہ 1447ھ مطابق 26 مئی 2026ء، منگل
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں