اشاعتیں

تذکرہ شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ (1918ء - 2010ء)

تصویر
تذکرہ شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ (1918ء - 2010ء) محمد روح الامین میُوربھنجی تاریخ تکمیل تحریر: 26 ذی قعدہ 1443ھ مطابق 27 جون 2022ء بہ روز پیر        دار العلوم دیوبند کے مایۂ ناز استاذ الاساتذہ، فن ہیئت و فلکیات کے ماہر، جامع المعقول والمنقول، دار العلوم دیوبند میں تقریباً پینسٹھ سال تدریسی خدمات انجام دینے والے عالم دین سابق شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ کی حیات و خدمات آج میرا موضوع تحریر ہے، ان کے بارے میں درج ذیل کتابوں میں مواد موجود ہے: (1) مجلہ الداعی؛ 2010ء کے مختلف شمارے، (2) ماہنامہ دار العلوم؛ 2010 - 11ء کے مختلف شمارے، (3) ”نقوش حیات“ و ”قافلۂ علم و کمال“ از مولانا خلیل الرحمن قاسمی برنی، (4) ”خدا رحمت کند“ و ”بے مثال شخصیت باکمال استاذ“ از مولانا ندیم الواجدی، (5) ”تاریخ دار العلوم“ جلد دوم از مولانا سید محبوب رضویؒ، (6) ”دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ“ از مولانا محمد اللّٰہ خلیلی قاسمی، (7) ”وہ کوہ کَن کی بات“ از مولانا نور عالم خلیل امینیؒ، (8) ”ذکر رفتگاں“ جلد دوم از مفتی محمد سلمان م...

تذکرہ داعی اسلام محمد پالن حقانی گجراتیؒ (1922ء - 2003ء)

تذکرہ داعی اسلام محمد پالن حقانی گجراتیؒ (1922ء - 2003ء) محمد روح الامین میوربھنجی تاریخ تکمیل تحریر: 11 ذی قعدہ 1443ھ بہ مطابق 12 جون 2022ء بہ روز اتوار        ہر زمانہ میں اس زمانے کے دیگر دنیاوی تقاضوں کی طرح دینی و ایمانی تقاضے بھی ہوتے ہیں، جن کو اللّٰہ تعالیٰ دیگر دنیاوی تقاضوں کی طرح پورا فرماتے رہتے ہیں؛ اس سلسلے کا سب سے بڑا اور بنیادی تقاضا ہدایت ہے، اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں ہر قوم کے لیے الگ الگ نبی اور رسول بھیجے، جس کو قرآن کریم میں ”ولکل قوم ھاد“ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ”ولكن رسول اللّٰه و خاتم النبيين“ کے ذریعے ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے اور ان کے ذریعے سلسلۂ رسالت و نبوت پر مہر لگائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے؛ لیکن ہدایت پر مہر لگا کر اس کا سلسلہ ختم نہیں کر دیا گیا؛ بلکہ نبی خاتم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امت کی رشد و ہدایت کے لیے قدرت کا یہ فیصلہ چلا آ رہا ہے کہ وہ ہر زمانہ میں اسی امت میں سے امت ہی کی دینی و اخروی خیر و بھلائی کے لیے انھیں میں سے کسی کا انتخاب کرکے اسے قوم و ملت کے ل...

صحت و بیماری سے متعلق چند سوالات و جوابات

تصویر
صحت و بیماری سے متعلق چند سوالات و جوابات جوابات از محمد روح الامین میُوربھنجی سوال نمبر (1)  جسم انسانی میں سب سے بڑی ہڈی کون سی ہے؟ تحریر کریں۔ جواب نمبر (1) ران کی ہڈی (femur) سوال نمبر (2)  ران میں کتنی ہڈیاں ہیں بیان کریں۔ جواب نمبر (2) ران میں ایک ہی ہڈی ہے (سرین کے نیچے کی جوڑ سے گھٹنے کی جوڑ تک) سوال نمبر (3)  پولیو کے بارے میں اپنی معلومات پیش کرتے ہوئے اس سے بچنے کا طریقہ لکھیں۔ جواب نمبر (3) پولیو: ایک وائرس جو فالج کا سبب بن سکتا ہے، جو شخص در شخص منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل اعصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ پولیو سے بچاؤ کا طریقہ: آلودگی سے بچنا؛ خواہ اس کا تعلق پانی سے ہو؛ خوراک سے ہو یا ہوا سے ہو اور کسی متعدی و دوسروں میں منتقل ہونے والی بیماری سے متاثر شخص کے ساتھ گھلنے ملنے سے بچنا۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیو ویکسین کے ذریعے آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔ پولیو ویکسین پولیو وائرس سے لڑنے کے لیے بچوں کے جسم کی مدد کرتا ہے اور بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ویکسین کے صرف چند قطرے ...

صحبتِ اہل اللّٰہ کی اہمیت

صحبتِ اہل اللّٰہ کی اہمیت محمد روح الامین میوربھنجی      کوئی شخص کتنا ہی بڑا عالم، کتنا ہی بڑا مفسر اور کتنا ہی بڑا محدث کیوں نہ ہوجائے، مگر علم کا نور اور معرفت الہی؛ اہل اللہ کی جوتیاں سیدھی کرنے اور ان کے کڑوے گھونٹ پینے سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔     علم روشنی کے مانند ہے تو عمل چراغ کے مانند؛ مگر علم پر عمل اسی وقت ہوگا جب چراغِ عمل میں روغنِ اخلاص ہو اور اخلاص کا روغن اہل اللہ کی دوکان یعنی ان کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے ہے (اہل اللہ کی صحیح پہچان یہ ہے جو ادنی سے ادنیٰ سنت کو بھی نہ چھوڑتا ہوں، گناہوں سے اجتنابِ کلی کرتا ہوں، بدعت اور خلافِ شرع عمل کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہ کرتا ہو، دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیتا ہو، اس کے پاس بیٹھ کر اللہ تعالی کی یاد تازہ ہو جائے، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے رغبت پیدا ہونے لگے) اہل اللہ کی صحبت وہ چیز ہے، جس کی وجہ سے دل میں خدا اور خاصّانِ خدا سے محبت پیدا ہوتی ہے، قلب میں خوف خدا اور خوف آخرت راسخ ہو جاتا ہے اور محبت و خوف خدا سے اعمال صالحہ کا شوق و جذبہ پیدا ہوتا اور گناہوں سے اجتناب آسان ہوجاتا ہے اور سچے اعتقادات میں رس...

اتباع ہویٰ یعنی نفس پرستی

اتباع ہویٰ یعنی نفس پرستی محمد روح الامین میُوربھنجی      خواہش رانی اور اتباع ہویٰ ایک ایسی بیماری ہے، جو انسان کو آہستہ آہستہ بے فکر اور انجام کار سے غافل بنا دیتی ہے اور احکامات الٰہیہ اور ارشادات نبویہ پر عمل کرنے میں مانع بنتی اور رکاوٹ پیدا کرتی ہے، خواہش نفسانی کی پیروی کرنے والا شخص بسا اوقات گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چل پڑتا ہے، قرآن کریم میں خواہش پرستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے أ فرأیت من اتخذ إلہ ھواہ الخ یعنی ''پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر غور کیا، جس نے اپنا معبود اپنی نفسانی خواہشات کو بنا لیا اور اللّٰہ نے علم کے باوجود اس کو گمراہ کر دیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی، اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا، پس اللّٰہ کے (گمراہ کرنے کے) بعد کون ہے، جو اُسے ہدایت دے دے، کیا پھر بھی تم سبق حاصل نہیں کرتے'' (سورۃ الجاثیۃ: 23) اس آیت میں جس صفتِ رذیلہ اور اس کی وبال کا بیان ہے، وہ صفت انسان کو گمراہی اور ضلالت میں دھکیلنے کے لیے کافی ہے۔       ہوائے نفسانی اور نفسانی خواہش وہ شری قوت ہے، جو انسان کو شر پر آمادہ کرتی ہے؛ یہاں ت...

تذکرہ مولانا محمد عثمان معروفی (1928ء - 2001ء)

تذکرہ مولانا محمد عثمان معروفی (1928ء - 2001ء) 📝 محمد روح الامین میوربھنجی      مولانا محمد عثمان معروفی رحمۃ اللّٰہ علیہ (1347ھ م 1928ء - 1422ھ م 2001ء) ایک مشہور مصنف، مؤرخ، سوانح نگار، فن تاریخ گوئی کے ماہر، ایک کامیاب مدرس اور ایک مایۂ ناز عالم دین تھے، وہ 1950ء سے 1995ء تک تقریباً نصف صدی تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اس کے بعد 1997ء تا 2001ء اپنی وفات تک چار سال ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور کے مدیر و ایڈیٹر رہے۔ ان کے بارے میں مندرجۂ ذیل کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے بندہ نے یہ مضمون تیار کیا ہے: (1) نقوش عثمان کردار و آثار کے چند زاویے از مولانا انصار احمد معروفی، (2) ایک عالمی تاریخ، (3) مشاہیر کوپا گنج، (4) مشاہیر پورہ معروف۔ (5) دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ از ڈاکٹر مولانا محمد اللّٰہ خلیلی قاسمی اور دیگر کئی کتابوں سے موصوف کے بعض اساتذہ کے سنینِ وفات ماخوذ ہیں۔ ولادت و خاندان       ان کی ولادت 20 جمادی الاولی 1347ھ مطابق 4 نومبر 1928ء بہ روز اتوار محلہ بانسہ، پورہ معروف، ضلع اعظم گڑھ (جو اس وقت ضلع مئو میں آتا ہے) میں ہوئی۔ تاریخی نام...

ظلم نہ سہیں اور نہ ہونے دیں

ظلم نہ سہیں اور نہ ہونے دیں 📝 محمد روح الامین میوربھنجی      جنوبی ہند کی نادَر قوم؛ جن کو معاشرے میں ادنیٰ سمجھا جاتا تھا؛ یہاں تک کہ ان کی عورتوں کو سینہ ڈھانکنے کے لیے بھی ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا! https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%AF%D8%B1_%28%D8%B0%D8%A7%D8%AA%29?wprov=sfla1      پھر کیا تھا؛ انھوں نے اپنے حق کے لیے لڑائیاں لڑیں اور اپنے حقوق حاصل کرکے چھوڑے، (اس حق کی لڑائی کو 'بغاوتِ چَنّار' کہا جاتا ہے https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D8%BA%D8%A7%D9%88%D8%AA_%DA%86%D9%86%D8%A7%D8%B1?wprov=sfla1) پھر انھوں نے اپنی حیثیت و شناخت بنائی، اپنی تعلیم پر توجہ دی، اپنی معیشت درست کی، آج انھیں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، آج انھیں ایک ترقی یافتہ قوم کہا جاتا ہے۔            یہاں دیے گئے دونوں لنکوں کے ذریعے آپ اردو میں اس برادری اور قوم کے بارے خاصے معلومات حاصل کر سکتے ہیں، بندہ نے انھیں انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔