خطیبِ اڈیشا مولانا محمد جسیم الدین قاسمی سمستی پوریؒ: حیات و خدمات
خطیبِ اڈیشا مولانا محمد جسیم الدین قاسمی سمستی پوریؒ: حیات و خدمات
محمد روح الامین قاسمی
(دار العلوم حسینیہ مدنی نگر، چَڑَئی بَھول، ضلع میُوربھنج، اڈیشا)
خطیبِ اڈیشا حضرت مولانا محمد جسیم الدین قاسمی سمستی پوریؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل، ممتاز عالمِ دین، شعلہ بیاں خطیب اور تحریکِ جمعیۃ علماء کے سرگرم حامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف صدی کا عرصہ صوبہ اڈیشا، بالخصوص کیندرہ پاڑہ میں گزارا، جہاں درس و تدریس، دعوت و اصلاح اور دینی و ملی خدمات انجام دیں۔ آپ کی علمی و خطیبانہ صلاحیتوں کے ساتھ علاقائی و صوبائی معاملات پر گہری نظر اور اکابرِ اڈیشا سے مضبوط روابط بھی آپ کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ آپ نے مختلف دینی اداروں سے وابستہ رہ کر نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور دینی شعور کی بیداری کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ اپنے علاقے میں آپ ”خطیبِ اڑیسہ“، ”واعظِ اڑیسہ“ اور ”بلبلِ اڈیشا“ جیسے القابات سے ملقب کیے جاتے رہے۔
ابتدائی و تعلیمی زندگی
آپ کا نام محمد جسیم الدین تھا۔ آپ کا آبائی وطن بڑاہی، ضلع سمستی پور، بہار ہے، جو پہلے غیر منقسم ضلع دربھنگہ کا حصہ تھا۔ چند سالوں سے آپ اپنے آبائی وطن ہیں میں مقیم تھے۔ آپ کی تاریخِ پیدائش یا سنہ پیدائش یاد نہیں۔ غالباً 1950ء سے 1955ء کے درمیان کی پیدائش رہی ہوگی۔
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم مدرسہ خیر العلوم بردونی، ضلع سمستی پور میں حاصل کی، جہاں ان کے اساتذہ میں مولانا احمد علی رحمانی، مولانا یوسف بٹس پوری اور الحاج ماسٹر عبد الرحیم صاحبان تھے۔ اس کے بعد مدرسہ بدر الاسلام، بیگو سرائے میں داخلہ لیا اور متوسط درجات کی تعلیم حاصل کی، جہاں ان کے اساتذہ میں مولانا محمد اسماعیل مونگیریؒ (تلمیذِ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ) اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا محمد اسحاق مونگیریؒ بھی شامل تھے۔ (صوبۂ اڈیشا میں یہ حضرات پٹنوی کے لاحقے کے ساتھ معروف ہیں۔)
اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور شعبان 1392ھ مطابق ستمبر 1972ء میں دورۂ حدیث کا سال پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ نے اپنے عہد کے متعدد جلیل القدر علماء و محدثین سے کسبِ فیض کیا۔ آپ نے اپنے شریکِ دورۂ حدیث مولانا مجیب اللہ گونڈوی کے اساتذۂ دورۂ حدیث کی تفصیلات کے مطابق؛ صحیح بخاری (جلد اول) بالترتیب فخر المحدثین مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ، مولانا سید فخر الحسن مرادآبادیؒ اور مولانا شریف حسن دیوبندیؒ سے پڑھی۔ صحیح بخاری (جلد ثانی) فقیہ الامت مولانا محمود حسن گنگوہیؒ سے، جامع ترمذی مولانا سید فخر الحسن مرادآبادیؒ سے، شمائل ترمذی مولانا معراج الحق دیوبندیؒ سے، صحیح مسلم مولانا شریف حسن دیوبندیؒ سے، سنن ابی داؤد مولانا عبد الاحد دیوبندیؒ سے، سنن نسائی علامہ محمد حسین بہاریؒ سے، سنن ابن ماجہ مولانا انظر شاہ کشمیریؒ سے، شرح معانی الآثار مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ سے، موطأ امام مالک مولانا محمد نعیم دیوبندیؒ سے اور موطأ امام محمد مولانا اسلام الحق اعظمیؒ پھر خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمیؒ سے پڑھی۔
آپ کے ممتاز شرکائے دورۂ حدیث میں مولانا مجیب اللہ گونڈوی (استاذ حدیث دار العلوم دیوبند)، جو اپنے زمانے میں ترجمانِ دورۂ حدیث تھے، مولانا بدر الحسن قاسمی (مقیم حال کویت و نائب صدر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)، مولانا عبد الخالق سنبھلیؒ (سابق نائب مہتمم و استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند) اور مولانا ابو العاص بستوی شامل تھے۔
آپ کے زمانۂ طالب علمی یعنی دورۂ حدیث کے سال کا ایک اہم واقعہ کا ہے۔ درمیان سال میں 21 صفر 1392ھ کو اس وقت کے شیخ الحدیث فخر المحدثین مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد صحیح بخاری (جلد اول) ایک ہفتہ حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ نے پڑھائی۔ جب انتظامیہ کی جانب سے مولانا فخر الحسن مرادآبادیؒ کو شیخ الحدیث بنانے کی بات آئی اور ایک ہفتہ انھوں نے جلد اول پڑھائی بھی تو طلبہ نے اس پر احتجاج کیا اور مولانا شریف حسن دیوبندیؒ کو اس منصب پر فائز کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ اور دورۂ حدیث کے ترجمان مولانا مجیب اللہ گونڈوی پیش پیش تھے۔ اس وقت ہنگامی مجلسِ شوریٰ کے ذریعے جلد اول کی تدریس مولانا شریف حسن دیوبندیؒ کے سپرد کی گئی تھی۔
زمانۂ طالب علمی میں مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ (ولادت: 1953ء، وفات: 2022ء) آپ کے رفیق درس تھے۔ مدرسہ خیر العلوم بردونی، مدرسہ بدر الاسلام بیگو سرائے اور دارالعلوم دیوبند؛ تینوں ہی اداروں میں دونوں کی رفاقت رہی۔ مولانا ذبیح اللہ قاسمیؒ آپ کے ہم عمر یا آپ سے چند سال بڑے تھے اور 1971ء میں فارغ ہوئے، جب کہ آپ نے 1972ء میں فراغت حاصل کی۔
عملی و تدریسی زندگی
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد 1972ء میں آپ صوبۂ اڈیشا تشریف لے آئے۔ یہاں سب سے پہلے آپ کا تقرر؛ مدرسہ اسلامیہ دینیہ (ارشد العلوم)، اسریسر، چودہ محلہ، سبلنگ کنی پاڑہ، ضلع کٹک میں بحیثیت مدرس ہوا۔ اس کے بعد سرکاری ادارے مدرسہ اشرف العلوم رمضانیہ، فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں آپ کا تقرر ہوا اور طویل عرصے تک وہاں تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ آپ نے جامع مسجد، فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں سالہا سال امام و خطیب، پھر خطیب کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
آپ نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف صدی کا عرصہ اڈیشا میں گزارا۔ بالخصوص شہر کیندرہ پاڑہ میں اپنی طویل علمی و دینی خدمات کے باعث ایک محترم اور معتبر عالم کی حیثیت سے اکابر علمائے اڈیشا میں آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ جامعہ اشرف العلوم محمود آباد، کیندرہ پاڑہ کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم سونگڑہ سے بھی آپ کو خصوصی تعلق اور قلبی وابستگی تھی۔ آپ کو اکابر علمائے اڈیشا کے درمیان خاص مقام حاصل تھا۔ امیرِ شریعت اول اڈیشا حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ، امیرِ شریعت ثانی حضرت مولانا سید سراج الساجدین قاسمی کٹکیؒ اور دیگر اکابرِ اڈیشا سے آپ کے گہرے روابط تھے اور ان کے نزدیک آپ کی خاص قدر و منزلت تھی۔
آپ تحریکِ جمعیۃ علماء کے پرجوش حامی اور سرگرم علم بردار تھے۔ امیرِ شریعت اول اڈیشا اور امیرِ شریعت ثانی اڈیشا کے انتقال کے مواقع پر آپ بنفسِ نفیس نمازِ جنازہ میں شریک تھے اور ان دونوں مواقع پر جانشین کے انتخاب سے متعلق اہم اعلانات بھی آپ ہی نے کیے تھے؛ ایسا میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے۔
تدریس کے ساتھ خطابت آپ کی نمایاں صلاحیت تھی۔ آپ کا شمار اڈیشا کے ممتاز خطباء میں ہوتا تھا۔ تقریر میں روانی، برجستگی اور مؤثر اندازِ بیان آپ کا خاص وصف تھا۔ مختلف دینی اجتماعات اور کانفرنسوں میں آپ کو خطاب کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ اڈیشا اور بیرون اڈیشا مختلف مقامات کے بڑے بڑے علماء کی موجودگی میں آپ کو خطاب کا شرف حاصل تھا۔ شاہی امام جامع مسجد مولانا سید عبد اللہ بخاریؒ کے سامنے دہلی میں خطاب ہوا تھا۔
امیر شریعت حضرت مولانا محمد فاروق قاسمی (رئیس الجامعہ جامعہ اشرف العلوم کیندرہ پاڑہ) کی رفاقت میں اکثر آپ کے اسفار ہوا کرتے تھے اور دونوں میں بہت گہرے مراسم تھے۔ حضرت امیر شریعت جب 1984ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہو کر کیندرہ پاڑہ تشریف لائے تھے تو دیگر اکابرین کے ساتھ مولانا محمد جسیم الدین صاحب نے بھی انھیں بند پڑے مدرسہ اشرف العلوم حنفیہ کی باگ ڈور سنبھالنے کا مشورہ دیا تھا، جس کا تذکرہ خود حضرت امیر شریعت نے مجھ سے کیا تھا۔
27 فروری 2009ء کو مسجد بلال، کیونجھر میں آپ کا ایک اہم خطاب ہوا تھا۔ 26 فروری 2009ء کو امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم اردو ٹریننگ اسکول، شیخ بازار، کٹک منعقدہ جمعیۃ علماء اڈیشا کے اجلاس میں شرکت کے بعد 27 فروری 2009ء بہ روز جمعہ چَڑَئی بَھول، ضلع میُوربھنج کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ دن میں ان کا قیام شہر کیونجھر میں ہوا، جہاں انھوں نے مسجد بلال، کیونجھر میں جمعہ کا خطبہ دیا، تاہم اردو خطاب سے معذرت فرمائی تھی۔ اس موقع پر مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ نے اردو میں نہایت شاندار تقریر کی اور حضرت مولانا سید ارشد مدنی مد ظلہ العالی کا شاندار تعارف بھی کروایا تھا۔
اسی روز مغرب کے بعد آپ نے چڑئی بھول میں منعقدہ اجلاسِ عام سے خطاب فرمایا اور وہاں بھی خانوادۂ مدنی کا خصوصی تعارف فرمایا تھا۔ اس اجلاس کے موقع پر دارالعلوم حسینیہ، مدنی نگر، چڑئی بھول کا سنگِ بنیاد حضرت مولانا سید ارشد مدنی مد ظلہ العالی نے رکھا تھا۔ اس سے قبل بھی آپ والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کی دعوت پر مرتبہ چڑئی بھول تشریف لا چکے تھے۔ اسی طرح جامعہ تجوید القرآن عثمانیہ، بارہ بٹیہ، تیرن، ضلع جگت سنگھ پور، اڈیشا میں بھی آپ کی متعدد مرتبہ آمد ہو چکی تھی۔
2004ء میں چڑئی بھول میں منعقدہ ”تحفظِ سنت کانفرنس“ میں بھی آپ نے والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کی دعوت پر شرکت کی تھی اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ یہ کانفرنس امیر شریعت اول اڈیشا مناظر اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی رحمہ اللہ کے زیر صدارت منعقد ہوا تھا اور جس میں مناظر اسلام مولانا سید طاہر حسین گیاوی رحمہ اللہ بھی شریک تھے۔
جامعہ ربانی منوروا شریف، ضلع سمستی پور کے اجلاسوں میں اس کے بانی و مہتمم مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب کی دعوت پر بارہا آپ کے بیانات ہوا کرتے تھے جو جامعہ کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہیں۔ 15 ستمبر 2024ء کو وفاق العلماء بہار کی جانب سے جامعہ ربانی میں منعقدہ ”تحفظِ اوقاف کانفرنس“ میں بھی آپ کا خطاب ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اپنے علاقے میں ان کے خطابات ہوتے رہتے تھے۔
آپ کو اڈیشا، بالخصوص ضلع کیندرہ پاڑہ کے علاقائی و صوبائی سیاسی حالات پر گہری نظر حاصل تھی۔ سیاسی حلقوں میں بھی آپ کی رائے اور مشورے کو اہمیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد آپ سے مشورہ اور رہنمائی کے لیے رجوع کرتے تھے۔ اس طرح دینی و علمی حلقوں کے علاوہ سماجی اور سیاسی میدان میں بھی آپ کا ایک مؤثر مقام تھا۔
اخلاق و اوصاف
آپ کی شخصیت میں علم و فضل کے ساتھ شفقت، محبت، خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کے اوصاف نمایاں تھے۔ آپ ملاقات کے لیے آنے والوں کا عزت و احترام سے استقبال کرتے اور ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ چھوٹوں پر شفقت اور اپنے متعلقین سے محبت آپ کی طبیعت کا خاص حصہ تھی۔ آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف حق گوئی، بے باکی اور دینی حمیت بھی تھا۔ دینی و معاشرتی معاملات میں اپنی رائے کا اظہار پوری جرأت اور وضاحت کے ساتھ کرتے اور حق بات کہنے میں کسی مصلحت یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ آپ کی خطابت میں دینی غیرت، امت کا درد اور اصلاحِ معاشرہ کی فکر نمایاں ہوتی تھی۔ اہلِ علم، مخلصین اور دینی خدمات انجام دینے والوں کی قدر کرتے، علماء کی عزت و توقیر فرماتے اور اخلاص کے ساتھ دین کا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ ملازمت سے سبک دوشی کے بعد آبائی وطن واپس آنے پر بھی دعوت و اصلاح اور تقریر و خطابت کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اڈیشا سے دور ہو جانے کے باوجود اہلِ علم و عوام میں آپ کی شناخت ’’خطیبِ اڑیسہ‘‘، ”واعظِ اڑیسہ “ اور ’’بلبلِ اڑیسہ‘‘ جیسے القابات کے ساتھ برقرار رہی۔
وفات
زندگی کے آخری ایام میں مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ علیل تھے اور چند سالوں سے اپنے آبائی گاؤں بڑاہی، ضلع سمستی پور، بہار ہی میں مقیم تھے۔ 20 جمادی الاولیٰ 1448ھ مطابق یکم نومبر 2026ء کو اتوار کے وہیں آپ کا انتقال ہوا اور اسی دن نماز جنازہ ادا کی گئی اور تدفین عمل میں آئی۔ نمازِ جنازہ میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ آپ کی وفات پر صوبۂ اڈیشا میں ایک غم کی لہر دوڑ گئی اور سب ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگے۔
اللہ تعالیٰ آپ کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آپ کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔
نوٹ:
اپنے والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کے ہمراہ 2003ء میں فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں میری آپ سے ملاقات ہوئی۔ تبھی ایک بار کیندرہ پاڑہ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔
اس کے بعد 27 اگست 2022ء میں مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ کے انتقال کے بعد ان کی حیات و خدمات پر مواد جمع کرنے کے سلسلے میں مولانا جسیم الدین قاسمیؒ سے فون پر گھنٹوں تفصیلی گفتگو ہوئی تھی، مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ کے ساتھ ساتھ آپ کے سلسلے میں بھی میں نے انٹرویو لیا تھا۔ اس گفتگو کی ریکارڈنگ محفوظ تھی، لیکن موبائل فون گم ہوجانے کے باعث وہ ریکارڈنگ محفوظ نہ رہ سکی۔ تاہم اس گفتگو کی روشنی میں میں نے مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ پر سوانح خاکہ تیار کیا تھا، جس میں خود آپ کے بھی احوال آ گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں علمائے اڈیشا پر زیر ترتیب اپنی کتاب کے سلسلے میں، میں نے مولانا سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی؛ مگر اس میں ناکام رہا۔ بعد میں مولانا توحید الرحمن قاسمی (کیندرہ پاڑہ) سے معلوم ہوا کہ مولانا اس وقت بہت علیل چل رہے ہیں۔ کئی اور علماء سے بھی رابطہ نہ ہو پانے کا ذکر سنا تھا۔
اللہ تعالی حضرت مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے اور پس ماندگان و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
خصوصی نوٹ:
مولانا کے سلسلے میں جن حضرات کو مزید قابلِ ذکر باتیں معلوم ہوں، وہ درج ذیل نمبر پر رابطہ کر کے بندے کو اطلاع دے سکتے ہیں:
موبائل و واٹس ایپ نمبر: 7409912239
ای میل ایڈریس: ramin014007@gmail.com
بعض بیانات:
مزید پڑھیے:
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں